خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 644
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۴۴ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء حالانکہ میں نے وضاحت کی تھی کہ ادائے حقوق کے قواعد بننے ہیں پھر میں نے وہ سارے کاغذات ان کو واپس کر دیئے۔دعا کریں کہ وہ جلد بنالیں تا کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔یہ منصو بہ اس سال سے شروع ہوا ہے۔پچھلے سال کے اس سے پچھلے سال کے جو طلبہ ہیں ان کو یہ زیر غور نہیں لائیں گے۔اگر ان میں بہت ذہین ہے کوئی تو وہ اسی منصوبے کا دوسرا حصہ ہے کہ جو Genieus (جینیکس ) ہے اسے ہم ضائع نہیں کریں گے۔جو بہت ذہین دماغ ہے اس کو تو وہ چاہے تین سال پہلے کا ہو اگر اس قابل ہو تو اس کا بوجھ اٹھا لیں گے لیکن وہ استثناء ہوگا۔قانون جو ہے وہ صرف اس سال سے چالو ہوگا۔جلسہ سالانہ پر میں نے جو تقریر کی تھی وہ سارے پاکستان میں باہر بھی پھیلی۔کراچی اور سندھ کے سفر میں میں نے دیکھا کہ ہمارے چھوٹے بچوں اور بڑے طالب علموں میں ایک بڑا جذ بہ اور جوش ہے۔بیسیوں نے مجھے کہا دعا کریں کہ جو آپ نے کہا ہے اتنے سائنس دان خدا دے ہمیں بھی اس فہرست میں خدا شامل کرے۔آگے بڑھنے کا ایک جذبہ ہے۔ان کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی تھی۔ان کے لئے میں نے کراچی کے خطبہ میں یہ اعلان کیا کہ اس سال ہر بچہ جو کسی کلاس میں پاس ہوتا ہے ( پہلی میں بھی پاس ہوتا ہے ) وہ مجھے خط لکھے، بچہ ہو یا بچی ہر ایک مجھے خط لکھے کہ میں پاس ہو گیا۔اس کا فائدہ ہمیں یہ ہوگا کہ اگر ماں باپ یہ خیال کریں اور جماعتیں خیال کریں کہ یہ خطوط آجائیں تو ہمارے رجسٹر مکمل ہو جائیں گے ان کو میں نے کہا مجھے ہر بچہ جو خط لکھے گا اس کا جواب میں اپنے دستخطوں سے دوں گا۔دوسرے میں نے یہ کہا کہ پانچویں جماعت کا امتحان محکمہ تعلیم کی طرف سے ہوتا ہے۔آٹھویں کا بھی ، دسویں کا بھی ، دسویں بورڈ کی طرف سے انٹر میڈیٹ کا بھی ، چودھویں اور اس کے بعد یعنی بی۔اے، بی۔ایس سی اور اس سے اوپر یونیورسٹی امتحان لیتی ہے۔میں نے ایک تعداد معین کر دی مثلاً آٹھویں کے متعلق میں نے کہا کہ ہر ریجن کے محکمہ تعلیم کا جو امتحان ہے ہر بچہ جو