خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 642
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۴۲ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء اس لئے ہر وہ بچہ جو کسی گھر میں پیدا ہوتا ہے وہ غریب گھرانا ہے یا کروڑ پتی گھرانا ہے اس کا یہ حق ہے کہ خدا تعالیٰ نے علمی میدانوں میں جو قوتیں اور استعداد میں اس کو دیں ہیں اور جن کی نشوونما سے وہ آگے سے آگے نکل سکتا ہے۔ان قوتوں اور استعدادوں کی نشوونما ہو۔جوامیر گھرانا ہے اسے خدا کہتا ہے۔اپنی دولت غلط جگہ استعمال نہ کر ، اپنے بچوں کی پرورش پر استعمال کر ، جو غریب گھرانا ہے اسے خدا کہتا ہے فکر نہ کرو میں نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی ہے جو کام تم نہیں کر سکتے وہ جماعت کرے گی۔اس جماعت نے اعلان کیا ان وظائف کا۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ جماعت کی جو تعلیمی پالیسی تھی اس کا میں نے اعلان کیا۔وہ انعامی وظائف نہیں ہیں۔ادائے حقوق کے وظائف ہیں۔مثلاً ایک بچہ ہے ایف۔اے ایف۔ایس سی اس نے پاس کیا ہے۔بی۔اے میں داخل ہوا۔اس کے اپنے گاؤں یا علاقے میں کوئی کالج نہیں۔دور اس نے جانا ہے۔ہوسٹل کی رہائش اس نے اختیار کرنی ہے۔چار سو روپیہ مہینہ اس کا خرچ ہے۔ادائے حقوق کا وظیفہ ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اگر وہ خود چار سو میں سے سور و پیہ خرچ کرسکتا ہے تو اسے مجبور کیا جائے کہ وہ ایک سو روپیہ خرچ کرے اور جو بقیہ تین سو روپیہ ہے اس کا انتظام کر دیا جائے۔اگر کوئی نصف خرج خود کر سکتا ہے اس کا یہ حق نہیں کہ وہ پورے کا مطالبہ کرے۔اگر کوئی ۳۱۴ خرچ کر سکتا ہے اس کا یہ حق نہیں کہ اس ۳/۴ کا بھی مطالبہ کرے اور کہے میرے بیٹے کو سارا دو۔جس کے حالات ایسے ہیں کہ وہ ایک دھیلہ بھی نہیں خرچ کر سکتا۔اس کا یہ حق ہے کہ اس سے ایک دھیلہ بھی نہ خرچ کروایا جائے۔یہ ٹھیک ہے بعض دفعہ قربانی لینے کے لئے ان سے تھوڑا سا خرچ کروانا بھی پڑتا ہے۔لاہور میں جب ہمارا کالج تھا ایک بچہ بڑاذ ہین۔میرٹ سکالرشپ کی جونٹی سکیم چلی تھی اس میں وہ نہیں آسکا تھا۔چند نمبر اس کے کم تھے ویسے ذہین تھا۔احمدی نہیں تھا۔وہ میرے پاس آیا کہ داخل کر لیں۔میں نے اس سے حالات پوچھے۔اس نے کہا میں خرچ کچھ نہیں کرسکتا اور میں ہر جگہ گیا ہوں۔کوئی دوسرا کالج مجھے پڑھانے کے لئے تیار نہیں۔سنا ہے آپ پڑھانے کا انتظام