خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 641
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۴۱ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء اور وہ نہ کر سکیں لیکن اپنی قوت اور استعداد کے لحاظ سے ان کے اندر یہ طاقت تھی۔اس لئے جس دائرہ میں انسان کو آزادی دی اس میں انسان پر یہ ذمہ داری ڈالی کہ تم دوسرے کے حقوق کو غصب نہ کرنا۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: - يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ جو ان کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے وہ اسے جانتا ہے وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرة : ۲۵۶) اور اس عالمگیر محیط علم میں سے کسی چیز پر بھی انسانی دماغ احاطہ نہیں کر سکتا ، اسے جان نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ کے اذن اور منشا کے بغیر یعنی خدا تعالیٰ جب تک انسان کو عقل نہ دے اس وقت تک انسان خدا کے علم کے ایک چھوٹے سے حصے سے علم حاصل نہیں کر سکتا۔جتنی ترقیات انسان نے کیں علم کے میدان میں وہ الہی اذن اور منشا سے کیں۔تو ان آیات سے بھی یہ پتہ لگتا ہے کہ علم سے ہر شے کا احاطہ صرف اللہ تعالیٰ نے کیا ہوا ہے۔اس کی منشا کے بغیر کسی قسم کا کوئی علم بھی انسان یا کوئی اور چیز حاصل نہیں کرسکتی۔انسان کے علاوہ دوسری جو جاندار یا دوسری اشیاء ہیں ان کی فطرت میں علم رکھ دیا ہے۔مثلاً بھیڑ ہے۔وہ پر رہی ہوتی ہے۔وہ کسی سکول یا کالج کی پڑھی ہوئی تو نہیں ہے لیکن ایک ایسی بوٹی ہے جس پر وہ منہ مارتی اور کھاتی ہے اور ایک ایسی بوٹی اس کے ساتھ اگی ہوئی ہے جس کو وہ سونگھتی اور رڈ کر دیتی ہے، کھانے سے انکار کر دیتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل کے اندر پہلے سے یہ علوم جو ضرورت کے مطابق تھے رکھ دیئے لیکن انسان کو آزادی دی۔اس نے ترقیات کرنی تھیں، اس نے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا تھا، اس نے دنیوی علم کے میدان میں ، روحانی علم کے میدان میں آگے سے آگے بڑھنا تھا۔انسان کو قوت اور استعداد دی اور کہا ان قوتوں اور استعدادوں کی نشوونما کے لئے ہر چیز میں نے پیدا کر دی، اب تم کوشش کرو، ان چیزوں کو جو نشوونما کے لئے ضروری ہیں استعمال کرو اور آگے بڑھو۔آگے بڑھو۔آگے بڑھو میری رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرو۔میری نعماء سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرو۔