خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 640 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 640

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۴۰ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اگر کسی بچے کو ذہن رسا عطا کیا اور علم کے میدان میں آگے سے آگے بڑھنے کی قابلیت اس میں پیدا کی لیکن وہ بچہ ایک غریب کے گھر میں پیدا ہو تو اس سے اسلامی عقل یعنی وہ عقل جس کی نشو و نما اسلام نے کی ہے یہ نتیجہ نہیں نکالتی کہ اس بچے کی پڑھائی کا کوئی انتظام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسلام نے ہر قوت اور استعداد جو انسان کو ملی اس کے متعلق یہ وضاحت سے کہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ ہر قوت اور استعداد کی نشوونما ہو اور یہ نشو و نما اپنے کمال کو پہنچے اور یہ نشو ونما اپنے کمال پر پہنچنے کے بعد اپنے کمال پر قائم رہے اور یہ کہ اس غرض کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی خدائے عَلامُ الْغُيُوبِ کی نظر میں اس نے کائنات میں وہ پیدا کر دی ہے۔اگر کسی شخص واحد کو یہ حق جو خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے نہیں ملتا تو وہ مظلوم ہے اور دنیا میں کوئی شخص یا اشخاص ایسے ہیں جو ظالم ہیں اور اس کے حق پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں علمی قابلیت کے متعلق علیحدہ بھی کھول کر بیان کیا ہے کہ یہ قابلیت اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔قرآن کریم میں فرمایا :۔وَ انَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا (الطلاق: ۱۳) کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کیا ہوا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے ( یہ ایک لمبی آیت ہے جس کا آخری ٹکڑا میں نے آپ کے سامنے پڑھا) کہ خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے جب تک علم نہ ہو قدرت عقلاً ممکن ہی نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی جاہل دماغ یہ تصور کرے کہ وہ انسان کے جسم کی ضروریات سے واقف نہیں تو اسے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ انسان کی ضروریات کو پورا کرنے پر قادر بھی نہیں۔جب اسے علم ہی نہیں تو وہ اس کی ضروریات کو پورا کیسے کرے گا تو اللہ تعالیٰ قادر بھی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ہر چیز کے اندر اور باہر ظاہر اور باطن کو وہ جانتا ہے۔ان قوتوں اور استعدادوں کو بھی جانتا ہے جو ابھی نشو و نما حاصل نہیں کر سکیں انہیں بھی جانتا ہے جن کو نشو ونما کا ماحول مل جائے اور وہ نشو و نما حاصل کر لیں۔انہیں بھی جانتا ہے جنہیں نہ ملے