خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 624 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 624

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۲۴ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء کی طاقت ہے اس جماعت میں اس کے مطابق وعدے ہونے چاہئیں۔ہمارے ایک احمدی دوست نے ( کراچی سے ان کا تعلق نہیں۔بات سمجھانے کے لئے میں کراچی سے باہر کی ایک مثال لیتا ہوں ) سولہ لاکھ کا وعدہ بھجوادیا اور پانچ سال میں ایک ہزار ادا کیا۔میں نے ان کو دفتر کی طرف سے لکھوایا کہ جو وعدے ہیں اس کے مطابق ہم نے اپنی کچھ تجاویز سوچنی ہیں کچھ منصوبے بنانے ہیں۔آپ نے جس نسبت سے پندرہ سال میں سے پانچ سال میں ہزارد یا تو پندرہ سال میں تین ہزار کی آپ کو طاقت ہے ( آپ کا عمل بتا رہا ہے ) مگر تین ہزار کی بجائے آپ نے سولہ لاکھ کا وعدہ لکھوا دیا ہے۔ہم نے خود آپ کا وعدہ سولہ لاکھ کاٹ کے تین ہزار لکھ لیا ہے۔اس پر انہوں نے لکھا کہ ٹھیک ہے غلطی ہوگئی ، تین ہزار نہیں پچیس ہزار لکھ دیں وہ میں ادا کر دوں گا۔تو یہ وعدوں کے اوپر جو عمل ہے، جو خرچ کے منصوبے ہیں ، جو Plan کرنا ہے، جو ساری دنیا میں قرآن کریم کی اشاعت کرنی ہے، جس قسم کی ہم نے مسجد میں بنانی ہیں، جتنی طاقت ہے اتنی ہی بنانی ہیں، جتنے وعدے ہیں اس کے مطابق تو نہیں ہم بنا سکتے۔اس کی طرف توجہ ہونی چاہیے اور مشاورت تک ابتدائی رپورٹ مجھے مل جانی چاہیے۔دوسری بات جو آج میں کہنی چاہتا ہوں وہ قرآن کریم کی طرف توجہ دینا ہے۔قرآن عظیم یہ ہماری کوئی خواہش یا جذبہ یا قرآن کی محبت نہیں جو یہ اعلان کرتی ہے بلکہ قرآن کریم ) حقیقتاً ایک عظیم کتاب ہے، اتنے علوم اس میں بھرے ہوئے ہیں نہ ختم ہونے والے علوم کہ انسانی عقل ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔اتنے علوم بھرے ہوئے ہیں کہ قیامت تک کے انسان کو بھی شاید قرآن کریم کے سارے علوم کا احاطہ نہ ہو سکے اس قدر عظیم کتاب سے جو آپ کی روز مرہ کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے والی ہے جو آپ کے زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے۔جس سے ہمارا تعلق ہے مثلاً اگلی صدی کے مسائل۔ہم یقین رکھتے ہیں ، ہمارا ایمان ہے قرآن عظیم ان مسائل کو حل کرے گا مگر جہاں تک ہماری زندگیوں کا سوال ہے ہمیں تو اپنے زمانہ سے دلچسپی ہے نا اور میں علی وجہ البصیرت جانتا ہوں اور علی وجہ البصیرت اس کا اعلان کرتا ہوں، غیروں کے سامنے