خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 625 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 625

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۲۵ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء بھی کرتا ہوں کہ اس زمانہ کی تمام ضروریات کو قرآن کریم پوری کرتا ہے۔جو اس زمانہ نے نئے مسائل انسانی معاشرہ میں پیدا کئے ہیں سوائے قرآن کریم کے اور کوئی تعلیم کوئی ازم، کوئی انسانی دماغ کوئی بڑے سے بڑا فلسفی ان مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔اتنی عظیم کتاب ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کر دیا۔يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ۳۱) کہ قیامت تک اُمت محمدیہ میں قرآن پر بظاہر ایمان لانے والوں میں ایک ایسا گروہ بھی پیدا ہو گا جو قرآن کریم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دے گا اور کوئی توجہ نہیں کرے گا لیکن جو ایسا کرے گا وہ اس کا نتیجہ بھگتے گا، وہ ترقیات کی تمام راہیں اپنے پر بند کرے گا وہ نور سے نکل کے ظلمات میں آجائے گا اس کا سر مخالف کے سامنے ہر وقت جھکا رہے گا۔اس کا ہاتھ غیروں کے سامنے ہر وقت پھیلا رہے گا۔ذلّت کی تمام راہیں اس پر وا ہوں گی۔عزت کے سارے دروازے اس پر بند ہو جا ئیں گے کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا۔اِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيعًا (النساء : ۱۴۰) قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ تمام خزانے خدا کے ہیں اور اپنی حکمت کا ملہ سے، اپنی منشا کے مطابق وہ اپنے خزانوں کو اپنے بندوں کے لئے حصہ رسدی دیتا ہے اور اس کے دروازے ان پر کھولتا ہے۔قرآن کریم اگر قیامت تک کے لئے مسائل حل کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو قیامت تک خدا تعالیٰ کے ایسے نیک اور پاک اور مطہر بندے پیدا ہوتے رہنے چاہئیں جو معلم حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ سے سیکھیں اور انسانوں کو قرآن کریم کے اسرار اور بطون سے آگاہ کریں تا کہ جو نئی مصیبتیں انسان نے اپنے لئے پیدا کر لیں اور نئے مسائل اس کے سامنے آگئے ان کا کوئی حل ہو اور اس کی نجات کے دروازے کھلیں۔اس زمانہ کے لئے اور اس ہزار سال کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر قرآنی تفصیل میں بھی اور بیج کی حیثیت میں بھی موجود ہے یعنی جو اس زمانہ کے مسائل ہیں ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ہر وہ تفسیر کر دی جس کی ضرورت تھی اور بڑا لطف آتا ہے۔کئی دفعہ میں نے سوچا ہے۔کوئی مسئلہ درپیش ہے اور انسانی دماغ کام کرتا ہے، دعائیں