خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 407 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 407

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۰۷ خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۷۹ء کلام نہیں کرے گا اور تیسری بات یہ بتائی کہ نظرِ التفات سے بھی ان کو نہیں دیکھے گا۔خدا تعالیٰ کی نظر سے تو کوئی غالب نہیں، کوئی چھپا ہوا انہیں ہر چیز اس کی نظر میں ہے۔تو یہاں یہ جو کہا کہ لا يَنظُرُ اليهم یه نظرِ التفات ہی ہے۔خدا تعالیٰ کی آنکھ میں بھی وہ پیار نہیں پائیں گے اور یہ محرومی بہت بڑی محرومی ہے۔جنت کی بڑی عظمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مکالمہ حاصل ہو۔انسان وہاں اپنے رب کریم کی نگاہ میں پیارا اپنے لئے دیکھے اور اس کو پھر کیا چاہیے۔اور چھٹی بات یہ بتائی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ قہر کا جلوہ دیکھیں گے۔اور ساتویں یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا کلیۂ ہاں اگر چاہے تو اپنی رحمت سے کسی مشرک کی سزا میں کمی کر سکتا ہے لیکن کلیہ شرک معاف کر دے، یہ نہیں۔اور یہ بڑا زبر دست اعلان ہے اور ہمارے سوچنے کے لئے ایک بڑی خطرناک بات ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے قہر کے جہنم میں ایک لحظہ کے لئے بھی انسان اگر سوچے تو وہ زندگی برداشت نہیں کرسکتا۔ایک لحظہ کی جہنمی زندگی ہماری عقل، ہماری روح ہماری فطرت برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔تو یہ کہا گیا ہے کہ شرک سے بچو۔اس واسطے کہ تمہیں اگر شرک کرو گے تو بہر حال میرے قہر کے جہنم میں سے گزرنا پڑے گا۔تھوڑے عرصہ کے لئے یا زیادہ عرصہ کے لئے، اس کی رحمت پر اس کا انحصار ہے اس کا ہم کیا کر سکتے ہیں عاجز بندے۔اور آٹھویں بات ان آیات میں یہ بتائی گئی ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں دنیا میں جو اپنی پاکیزگی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ہم بڑے پاک ہیں حالانکہ پاک وہ ہیں جنہیں ہم پاک قرار اور نویں یہ بتا یا کہ ایسے لوگ جو اپنی پاکیزگی اور طہارت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ہیں وہ خدا کی نگاہ میں پاک اور مطہر نہیں بلکہ اس کی سزا کے مستحق ٹھہرے ہیں۔اور دسویں یہ بتایا کہ اکثر لوگ ایمان کے دعوے کے ساتھ ساتھ شرک میں بھی ملوث رہتے ہیں۔شرک ہزار قسم کا ہے شرک بتوں کا ہے پھر آگے بتوں میں بھی مشرک نے تقسیم کر دی۔پتھر کا بت ہے، لکڑی کا بت ہے، ہاتھی دانت کا بت ہے، ہمٹی کا بت ہے،سونے کا بہت ہے، چاندی کا بہت