خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 406
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۰۶ خطبه جمعه ۱۷۵ کتوبر ۱۹۷۹ء ہے اس وقت سے میں جانتا ہوں۔ایک یہ کہا۔یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ خدا تعالیٰ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں وہ اس وقت سے ہمارا واقف ہے کہ جب ہم ، ہمارا جسم مٹی کے ذروں کے اندر تھے اور انہیں ادھر ادھر ہوا میں اڑا کے کہیں سے کہیں لے جارہی تھیں، پھر خدا تعالیٰ نے ایک وقت میں ان کو اکٹھا کر دیا مختلف طریقوں سے۔اس وقت ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔دوسرے یہ حکم دیا کہ اپنی جانوں کو پاک مت قر اردو۔تیسرے یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ متقی کون ہے۔کوئی شخص اپنے متعلق کسی کے واقعی اور حقیقی اور مثبت طور پر متقی ہونے کا اعلان نہیں کر سکتا اور نہ کسی کے متعلق ایسا اعلان کر سکتا ہے۔چوتھے پھر فرمایا کہ بعض لوگ خدا تعالیٰ کے حضور بڑے عہد باندھتے ہیں، بڑی قسمیں کھاتے ہیں ،لوگوں کے سامنے قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم اس طرح کے فدائی اور جاں نثار اور ہر قسم کی قربانیاں کرنے والے خدا کے حضور ہیں لیکن جب دنیا کے مال و متاع ان کے سامنے اور دنیا کی Commodities ان کے سامنے آئیں تو ساری قسمیں اور عہد جو ہیں وہ بیچ کے دنیا لے لیتے ہیں اور اپنے عہد کو توڑتے اور اپنی قسموں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پانچویں یہ فرمایا کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں کر سکتے اور اللہ کی رضا جو حاصل نہ کر سکے اس کے متعلق اس آیت میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔یہ نہیں کہا کہ آخرت میں ان کا تھوڑا سا حصہ ہے آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور آخرت کی جو عظمت ہے۔اُخروی زندگی کی جو عظمت اور شان ہے وہ یہاں بیان ہوئی ہے۔وہ جنتیں ، وہ پھل جیسے بھی ہیں اس زندگی کے لئے وہاں کا وہ پانی ، وہاں کا وہ شہد وہاں کا وہ گوشت لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ (الواقعة : ۲۲) کہ جو تم پسند کرو گے وہ تمہیں مل جائے گا۔ٹھیک ہے یہ سب اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن بنیادی طور پر جو عظمت ہے اُخروی زندگی میں وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان سے ہم کلام ہو گا۔یہاں یہ اعلان کیا آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔خدا تعالیٰ ان سے