خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 408
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۰۸ خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۷۹ء ہے، ہیرے اور جواہرات کا بت ہے، کیا کیا بت بنالئے انہوں نے اور یہ نہ دیکھا کہ یہ بت اور ہم سیدھے جہنم میں جانے والے ہیں ایک تو یہ کھلا ، صاف اور Crude قسم کا شرک ہے جو انسان کرتا ہے۔ایک شرک ہے سیاسی اقتدار کا ، سفارشوں کے پیچھے لوگ دوڑتے ہیں۔خدا تعالیٰ پر تم تو گل نہیں کرتے اور سفارش پر زیادہ تو گل کرتے ہو۔ایک شرک ہے رشوت کا ، رشوت کو بت بنالیا کہ ہمارا کام دعا سے نہیں رشوت سے ہو جائے گا۔پھر شرک ہے اپنے نفس کی موٹائی کا کہ میں ایسا ہوں ، میں ایسا ہوں ، میں وہ ہوں جیسا کہ میں نے بتایا ہمارے ایک مسلمان بادشاہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا جس نے الحمراء کا محل بنایا تھا کہ میں اتنا عظیم بادشاہ ہوں کہ کئی ہزار مز دور الحمراء کا محل بنا رہا تھا صرف پتھر کھودنے والے تھے کئی ہزار جو ساری دنیا سے آئے ہوئے چوٹی کے کاریگر تھے۔یہ آنا، میں، میں میں تو اتنا غالب آیا شیطان کہ ہر چیز میں انانیت کے جلوے اس کو نظر آئے مگر خدا تعالیٰ نے اس کی کوئی نیکی قبول کی ہوئی تھی اس وقت خدا نے کہا فرشتوں کو میرے بندے کو جا کر بتاؤ، جھنجھوڑو، سنبھالو اسے تو خدا تعالیٰ کے حکم سے اسے سنبھالا گیا اور یکدم اسے احساس ہوا کہ میں خدا کو چھوڑ کے انانیت کی طرف کیسے جھک رہا ہوں گھوڑے سے چھلانگ ماری اور مصلی بچھائے بغیر زمین کے اوپر سجدہ ریز ہو گیا۔واپس آگیا کہا میں اس محل میں نہیں ٹھہر سکتا۔جب تک اس کونئی سجاوٹ نہ پہنا ولا غَالِبَ إِلَّا اللہ اس کا Motive ہے۔قریباً دو اڑھائی گز کی پٹی ہے چاروں طرف کمرے ہیں۔ہر کمرے میں لَا غَالِبَ إِلَّا اللہ کہیں چھوٹی پٹی میں، کہیں گول دائرہ کے اندر لکھا ہوا ہے۔لا غَالِبَ إِلَّا الله سے انہوں نے سجا دیا۔اگر کوئی شخص اپنے دل میں حقیقی طور پر لا غَالِبَ إِلَّا الله کے مفہوم کو سمجھتا ہے انانیت وہاں نہیں ٹھہر سکتی۔مار دی اس بادشاہ نے اپنی انانیت لَا غَالِبَ إِلَّا الله کے عملی اعلان کے ساتھ اور جب وہ محل لا غَالِبَ إِلَّا الله کے سائے میں آ گیا تو پھر بادشاہ اس میں آگیا۔پھر اس نے وہاں رہائش اختیار کی۔میں نے جاکے دیکھا، نماز کے لئے ایک چھوٹا سا حجرہ بھی بنایا ہوا ہے۔میں نے منصورہ بیگم کو کہا ویسے تو انہوں نے اجازت نہیں دی ہوئی میں نے کہا یہاں سجدہ کر لو