خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 372
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۷۲ خطبہ جمعہ ۲۱ ستمبر ۱۹۷۹ء رکھتے اور نماز سے بددل کر رہے ہو ان کو۔ایسے لوگ جو گھر میں دوسنتیں پڑھتے وقت پندرہ ہیں منٹ خرچ کر دیتے ہیں جب مسجد میں آتے ہیں تو امام کو حکم ہے کہ کمزور کا خیال رکھو۔نہ بہت چھوٹی نماز کراؤ کہ نماز مذاق بن جائے۔نہ اتنی لمبی کرو کہ بعض لوگوں کے لئے نماز تکلیف کا باعث بن جائے۔اجتماعی عبادات، نماز با جماعت پر بڑا زور دیا گیا کیونکہ یہ بھی انسانی معاشرہ میں ایک محسن پیدا کرنے کی کوشش ہے اور اُمت محمدیہ کو اُمتِ واحدہ اور بُنْيَانِ مَرْصُوصٌ أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ کے ماتحت بنانے کے لئے یہ ساری ہدایات دی گئی ہیں۔نماز میں دو اجتماعی پہلو ہیں۔ایک پنج وقت نماز با جماعت، اس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ بغیر لاؤڈ سپیکر کے مؤذن کی اذان کی آواز جہاں تک پہنچ جاتی ہے وہ اس مسجد کا دائرہ ہے لیکن جمعہ کے روز جس طرح آج ہم یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔اس میں شہر ہی نہیں بلکہ مضافات کے لوگ بھی جمع ہوتے ہیں۔یہ جمعہ بھی ایک نماز ہے لیکن اس میں محلے کے ایک چھوٹے سے حلقے کے نمازی اکٹھے نہیں ہوتے بلکہ سارے شہر کے (سوائے اس کے کہ شہر بہت بڑا ہو ) اور مضافات کے بھی احمدی مسلمان جن کی میں اس وقت بات کر رہا ہوں یا اُمت محمدیہ کے افراد دنیا میں ہر جگہ کے وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔تو اجتماعیت پر بڑاز وردیا گیا۔حج کے بھی دو پہلو ہیں جمع ہونے کے۔ایک فرضی طور پر حج ہے۔فرض ہے زندگی میں ایک بار ساری دنیا کے مسلمانوں پر۔وہ ایک وقت میں پہلے کم ہوتے تھے اب سہولتیں ہیں۔آٹھ دس لاکھ بھی وہاں حج کے موقع پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ایک نفل ہے اس کے ساتھ عمرہ اسے کہتے ہیں۔وہ سارا سال چلتا ہے لیکن اس میں بھی ایک اجتماعی پہلو ہے۔عمرہ کرنے کے لئے بھی سارا سال ساری دنیا سے لوگ سگے میں جمع ہوتے ہیں اور مدینے کی زیارت کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے کہ اِلى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) جَمِيعًا کا لفظ عربی زبان میں ایک گروہ کے ہر فرد کے متعلق نہیں بولا جاتا بلکہ اجتماعی جوان کی شکل بنتی ہے۔اس کے متعلق بولا جاتا ہے لیکن چونکہ سارے کے سارے اکٹھے اس میں آجاتے ہیں۔اس واسطے ہر فر د بھی اس کے اندر آ گیا۔جمیعا کے معنی ایک ایسی جماعت جس کے اندر افتراق و