خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 266
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۶۶ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء جارہے ہیں۔غریب ہیں غذا ساتھ نہیں ہے پوری۔غذا کا سامان پورا نہیں لے جارہے وہ ختم ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شکایت نہیں کی۔خدا تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں کیا۔کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہیں پھیلایا۔آپس میں سر جوڑے اور مشورہ کیا۔آداب اونٹ ذبح کریں اور کھائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا لگ گیا۔جب آپ کو پتا لگا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جن لوگوں کے پاس خوراک موجود ہے اور ختم نہیں ہوئی وہ اس گروہ کے امیر لوگ تھے نا، جو زیادہ کھانے پینے کی چیزیں لے کے آئے ہوئے تھے۔غریبوں کی ختم ہو گئی ان کی ختم نہیں ہوئی یعنی اس چھوٹے سے دائرہ میں دو طبقے بن گئے نا۔ایک غریب کا جن کا کھانے کا سامان خستم ہو گیا۔ایک امیروں کا جن کے پاس کسی کے پاس دومن ہوگی کسی کے پاس ایک من ہوگی۔کھجوریں بھی تھیں ، ستو بھی تھے اور کھانے کی جو چیزیں وہ استعمال کرتے تھے وہ۔آپ نے کہا سب جن کے پاس بھی جو کھانے کی چیز ہے بیت المال میں آ کے اکٹھی کر دو۔میں نے کہا تھا نا کہ جب کسی طبقے کو اس کے مناسب حال اور متوازن غذا نہ ملے تو سارے امرا کی غذا اکٹھی کر لو اور اکٹھا ایک جیسا کھانا دے دو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا سب لوگوں کے خوراک کے ذخیرے اکٹھے کر دیئے جائیں۔پس ہم نے سب ذخیرے اکٹھے کر لئے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سب کو مساویانہ راشن بانٹنا شروع کر دیا۔سب کو ایک جگہ لا کے کھڑا کر دیا نا۔یہ اُسوہ آپ نے قائم کر دیا۔اس کے بعد دو اور واقعات میں نے اس وقت بیان کرنے کے لئے ، آپ کو مسئلہ سمجھانے کے لئے ، اور دنیا کو منتخب کئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ایک پارٹی ساحل سمندر کی طرف روانہ کی اور اس کا امیر ابوعبیدہ بن جراح جو آپ کے ایک بڑے پیارے صحابی تھے ان کو مقرر کیا۔یہ جو پارٹی تھی یہ تین سو افراد پر مشتمل تھی۔بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس سر یہ میں نکلے تو ان کو مثلاً کوئی کام دیا تھا ساحل سمندر کی طرف۔تو اگر سیدھا راستہ اختیار کرتے تو چار پانچ دن میں پہنچ جاتے۔دس بارہ دن میں واپس آجاتے۔جب ان کے کام سپر دہی یہ ہوا ہے بارہ دن کا۔انہوں نے بارہ دن کی غذا ر کھی اپنے ساتھ۔چلے گئے لیکن راستہ بھول گئے۔یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے۔