خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 265
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۶۵ خطبہ جمعہ ۶/ جولائی ۱۹۷۹ء ہے اور پھر صحیح مسلم ہے۔میں نے یہ دونوں کتابوں کے ہی دو (حوالے ) لئے ہیں لیکن مسلم کا حوالہ میں نے اس لئے پہلے لیا کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ درج ہے۔اس کا میں ترجمہ لوں گا۔ویسے میرے پاس عربی کے الفاظ بھی ہیں مگر دیر ہوگئی ہے۔ایک صحابی کہتے ہیں ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے مگر رستے میں ہمیں خوراک کی سخت کمی پیش آگئی۔حتی کہ ہم نے ارادہ کیا کہ اپنی سواریوں کے بعض اونٹ ذبح کر دیں۔( میں ذرا ساتھ ساتھ تشریح کروں گا تھوڑی ) شان دیکھو! کھجور میں ساتھ لے کے گئے تھے غریب آدمی۔ستو ہوں گے اسی قسم کا راشن۔یہ مجاہد فوج ہے جن کو حکومت نہ کھانے کو دیتی ہے نہ پہنے کو دیتی ہے نہ ہتھیار دیتی ہے۔اپنے پیسوں سے إِلَّا مَا شَاء اللہ جتنی توفیق دی اور بعض ایسے غریب تھے ان کو دیا بھی لیکن اصل اصول یہ ہے کہ جس کو خدا نے توفیق دی وہ اپنے پیسے خرچ کرے۔اپنے کپڑے بنائے۔اپنی زرہیں بنائے۔اپنی تلوار میں خریدے۔اپنے نیزے لے۔اپنے تیر کمان تیار کرے اور پھر ان کی پریکٹس کرے اور ان میں مہارت حاصل کرے وغیرہ وغیرہ اپنی سواریاں لے۔غریب لوگ سواری انہوں نے لے لیں۔دو دو نے مل کے بھی لے لی ہوں گی ایک ایک اونٹ یا تین تین نے مل کے لے لیا ہوگا یا اس سے زیادہ نے والله اعلم لیکن راشن تھوڑا سا تھا۔کھجوریں ہوں گی کچھ اور اس قسم کی اور چیزیں۔جس وقت ان کا کھا ناختم ہوا تو۔۔۔۔انہوں نے ہاتھ نہیں پھیلا یا کھا ناختم ہو گیا لا ؤ کچھ کھانے کو دو۔انہوں نے یہ سوچا کہ مانگیں گے نہیں۔جب تک ہمارے پاس کھجوریں تھیں ہم نے کھا ئیں۔جب تک ہمارے پاس ستو تھے ہم نے ان کا استعمال کیا اور اپنے پیٹ بھرے اب وہ ختم ہو گئے ہیں۔ہمارے پاس اونٹ ہیں جن کی ہم سواری کرتے ہیں اور اس طرح کوفت سے بچ جاتے ہیں۔اب ہم اونٹ ذبح کر کے باری باری کوئی انہوں نے بنائی ہو گی سکیم وہ اس میں نہیں لیکن بڑے ذہین لوگ تھے جو میرے سامنے تصویر آئی ہے وہ یہ کہ انہوں نے مل کے سر جوڑے ہوں گے۔انہوں نے کہا ہوگا ہم چالیس آدمی یا سو آدمی ہیں یا پچاس آدمی ہیں اتنے دنوں کے بعد ایک اونٹ ذبح کیا کریں گے باری باری اور یہ کھالیں گے ، مانگیں گے نہیں۔یہ عظیم ذہنیت کہ جہاد پہ جارہے ہیں۔اپنے خرچ پہ