خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 226
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۲۶ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء کوششیں جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے بظا ہر نظر آتی ہیں، قبول نہیں کرے گا۔ان کے صدقات قبول نہیں کئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے عذاب کا سامان پیدا کرے گا اور ہیں وہ انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے اور نماز ادا کرنے والے۔یہ وہ گروہ ہے جن کے متعلق خدا کہتا ہے کہ ان کی قرب الہی کی کوششیں قبول نہیں ہوں گی۔خدا تعالیٰ ان کے لئے عذاب کرے گا پیدا۔بظاہر وہ خرچ بھی کرتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔مومن بھی ہیں اور کفر باللہ بھی کر رہے ہیں اور رسول کا بھی کفر کر رہے ہیں۔وَ مَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلَّا وَهُمْ كَسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ (التوبۃ: ۵۴) نماز پڑھتے ہیں مگر ٹھونگے مارتے ہیں یعنی شرائط اس کی قائم نہیں کرتے۔ان کے دل میں خدا تعالیٰ کا پیار نہیں۔وہ جو عاجزی کی کیفیت دل اور دماغ اور روح میں پیدا ہونی چاہیے وہ نہیں۔وہ خدا تعالیٰ کو ہی حاکم اور دیا لو نہیں سمجھتے بلکہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور قبروں پہ مثلاً سجدہ بھی کر لیتے ہیں جاکے اور پیروں کی پرستش بھی کرتے ہیں۔اس قسم کی نماز پڑھنے والے ہیں۔وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ۔دیتے تو ہیں مگر نفرت کے ساتھ دیتے ہیں۔بشاشت کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ خرچ کرے اور بشاشت سے خرچ کرے کراہت سے خرچ نہ کرے۔ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ نماز پڑھے اور نماز کو شرائط کے ساتھ قائم کرے۔یہ نہیں کہ کسالی۔مثلاً آگئے دوڑ کے ادھر ادھر دیکھ لیا اچھا مجھے کسی کی نظر مجھ پر پڑی ہے مجھے پھر نماز پڑھنی پڑے گی تو آگئے اور ظاہر میں ٹھونگے بھی مار لئے۔ایمان کا دعوی بھی ہے اور عملاً کفر باللہ اور کفر بالرسول بھی ہے اور ساتھ یہ دعویٰ بھی ہے یہ ہے ہی منافقوں کے متعلق۔ایسے کمزوروں کے متعلق جو نماز بھی پڑھتے ہیں آخر وہ ایمان کا دعوی کرنے والے ہیں نا جو آ جاتے ہیں مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے اور زکوۃ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔تو اس کو چاہیے آپ تمہید سمجھ لیں۔جو کچھ ابھی تک میں نے بیان کیا۔میں جماعت کے یہ بات ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت ہی