خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 225
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۲۵ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء نہیں کرو گے اگر اس کے مطابق جہاد نہیں کرو گے۔میں بتارہا تھا تین معنے ہیں ایک نفس کے خلاف جہاد۔ایک قرآن کریم کو ہاتھ میں پکڑ کے ساری دنیا میں قرآن کریم کے نور کو پھیلانے کی کوشش وہ بھی قرآن کریم کی اصطلاح میں جہاد ہے اور ایک اس انجان ناسمجھ کے خلاف جہاد جو خدا تعالیٰ کی پیاری قوم کو مادی طاقت سے مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تلواریں بھی ہوں گی ، تو کوئی پرواہ نہ کرنا میرے نام کے اوپر کھڑے ہو جانا جیسا کہ میں مثالیں دے کر پہلے آپ کو بتا چکا ہوں۔بہر حال یہ سارے اعمالِ صالحہ کے اوپر ہجرت اور جہاد کا لفظ احاطہ کئے ہوئے ہے۔بشارت خدا تعالیٰ کی رحمت کی دی اور شرطیں۔قرآن کریم میں بشارتوں کے ساتھ انداری پہلو مختلف جگہ ساری تعلیم ہی یہ بھری ہوئی ہے یعنی ہر حکم جو ہے اس کا ایک پہلو انذار کا نکل آتا ہے یعنی یہ کہا کہ اپنے بھائی سے حسن سلوک کر۔اسے دکھ نہ پہنچا۔دونوں منفی اور مثبت دونوں چیزیں۔اگر وہ دکھ پہنچا تا ہے حکم نہیں مانتا تو وہ انذار ہے اگر وہ سکھ پہنچاتا ہے تو وہ بشارت بن جاتی ہے۔عملاً اگر وہ ایسا کرتا ہے أُولَبِكَ سَيَرْحَمُهُمُ الله (التوبة: ۷۱) خدا تعالیٰ کی رحمت کے وارث ہوں گے۔کون لوگ ؟ وہ مومن مرد اور مومن عورتیں جو بعض، بعض کے خیر خواہ ہیں۔امر بالمعروف کرنے والے، منکر سے روکنے والے، نمازوں کو قائم کرنے والے، زکوۃ کو دینے والے، غرض کہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی پوری اور سچی اور کامل اطاعت کرنے والے - أُولَبِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللهُ - تو جو شخص باہمی دوستی اور خیر خواہی نہیں رکھتا، امر بالمعروف نہیں کرتا ، نہی عن المنکر نہیں کرتا، نماز کو شرائط کے ساتھ قائم نہیں کرتا پڑھتا تو ہے لیکن شرائط کے ساتھ قائم نہیں کرتا ، زکوۃ کو اس کی شرائط کے ساتھ ادا نہیں کرتا۔غرضیکہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت میں کمی کرتا ہے وہ انذار ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاؤ گے اگر ایسا کرو گے۔یہ آخر میں میں نے دو آیتیں اس لئے لی تھیں اس کا دوسرا حصہ نبی والا حصہ بھی ایک دوسری آیت میں ہے۔دونوں سامنے آجائیں گی تو آپ پر مضمون واضح ہو جائے گا۔دوسری آیت میں ہے کہ ایک گروہ ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ خدا تعالیٰ ان کی وہ