خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 193

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۹۳ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء پتا نہیں آپ میں کتنے دعائیں کرتے ہوں گے۔یہ ساری تمہید میں نے اس لئے بیان کی ہے کہ ہر احمدی کو ہر روز تضرع کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے خدا! تیرے یہ بندے تجھ سے دور ہو گئے اور دور چلے جارہے ہیں ، تو اپنے وعدوں کو پورا کر اور ایک انقلاب بپا کر اور ایسے سامان پیدا کر دے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے کہ یہ تیری طرف آنا شروع ہو جا ئیں اور تیرے غضب سے بچ جائیں اور تیرے پیار اور تیری رحمت کے یہ وارث بن جائیں اور یہ تیرے بندے بن جائیں ، شیطان کے بندے نہ رہیں اور بڑی کثرت سے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ واقع میں ایسا ہی کر دکھائے۔یہ دعائیں کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ہم نے جنتوں میں کچھ کئے بغیر تو نہیں جانا یہ سارا جو میں نے نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ ہر قسم کی مادی طاقت ،فوجی طاقت اور دولت ان لوگوں کے ہاتھ میں جو اسلام کے خلاف ہیں ، تو آپ ان کا کس طرح مقابلہ کریں گے؟ کیا آپ لاٹھیوں کے ساتھ ایٹم بم کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ یا ساری دنیا کی دولتوں کا مقابلہ اپنی غربت کے ساتھ کر سکتے ہیں؟ بظاہر تو یہی ہے کہ نہیں کر سکتے لیکن اگر دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے آپ مقابلہ کر سکتے ہیں۔دعاؤں سے کر سکتے ہیں آپ ان کا مقابلہ۔الغرض مقابلہ کر سکتے ہیں آپ دعا ئیں کر کے اپنے نفس میں ایک تبدیلی پیدا کر کے ایک نمونہ بن کر، اسلام کے حکم پر چل کر۔اس کے بغیر تو آپ نہیں کر سکتے۔میں افریقہ میں ایک دفعہ گیا ہوں، یورپ میں بہت دفعہ گیا ہوں خلافت میں اپنی۔وہ ایک ہی سوال کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں جو تعلیم آپ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں یہ بڑی اچھی ہے، یہ بتا ئیں اس پر عمل کہاں ہو رہا ہے۔یعنی قومی لحاظ سے ہلکی لحاظ سے کہاں عمل ہو رہا ہے اس تعلیم پر۔انفرادی لحاظ سے آپ کہہ دیں گے کہ جی چند لاکھ احمدی ہیں پاکستان میں وہ کر رہے ہیں۔کہیں دس ہزار احمدی ہے سارے یورپ میں وہ کر رہا ہے۔وہ کہتے ہیں یہ بات نہیں، بتاؤ قومی لحاظ سے کہاں عمل ہو رہا ہے اس تعلیم پر۔پہلے تو آپ نے اُسوہ بننا ہے، نمونہ بنا ہے اوروں کے لئے اور یہ بھی نمونہ بننا ہے کہ ہم دعائیں کریں گے۔اول چیز دعا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ دعا کے بغیر تو زندگی کا مزہ ہی کوئی نہیں۔