خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 194
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۹۴ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء ا خدا تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنتا، بڑا پیار کرنے والا ہے وہ۔میری اور آپ کی زندگی کا مزہ اس دعا کے بغیر نہیں جس میں ہم محض اپنے لئے نہیں، دوسروں کے لئے خیر مانگیں خدا سے۔آپ نے تبلیغ کرنی ہے۔اثر نہیں ہوسکتا جب تک خدا اثر نہ ڈالے۔وہ بڑے پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ایسے عجیب و غریب سوال کر دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اگر جواب نہ سکھائے تو جواب دے ہی نہیں سکتا انسان بڑے ہوشیار ہیں۔بڑے چالاک ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا۔پہلی دفعہ جب میں گیا تو ہالینڈ میں بڑا سخت تعصب پھیلا ہوا تھا۔یہ جو جنگ ہوئی تھی مسلمان ممالک کے خلاف یہودیوں کی ، انہوں نے پراپیگینڈہ کر کے بڑا سخت تعصب اسلام کے خلاف پھیلا یا ہوا تھا۔بس اللہ نے فضل کیا۔مشن ہاؤس ہمارا بھر گیا صحافیوں سے۔پینتیس کے قریب آئے ہوئے تھے اور جب میں نے باتیں شروع کیں تو ان پر اثر بھی ہوا۔ایک بڑا تیز قسم کا کیتھولک نو جوان صحافیوں میں بیٹھا ہوا تھا۔اس نے دیکھا کہ ان کی باتوں کا تو اثر ہو رہا ہے۔اثر زائل کرنے کے لئے اس کے دماغ نے ایک ترکیب سوچی۔اس نے یہ سوچا کہ میں اگر یہ پوچھوں کہ اس وقت تک آپ کتنے مسلمان بناچکے ہیں ہمارے ملک میں تو انہوں نے سچی بات کرنی ہے یہ کہیں گے دو ایک درجن بنائے ہیں۔زیادہ تو نہیں بنائے تو اثر زائل ہو جائے گا اور ہر کوئی سوچے گا کہ یہ تو کوئی بات نہیں کہ اتنے بڑے ملک میں دو ایک درجن مسلمان ہو گئے۔اس نے مجھ سے یہ سوال کر دیا کہ آپ یہ بتائیں کہ اس وقت تک ہمارے ملک میں ڈچ باشندوں میں سے کتنے مسلمان بنا چکے ہیں؟ اس نے تو اپنا ایک منصوبہ بنا یا تھا نا۔خدا تعالیٰ نے اپنا منصوبہ بنایا ساری عمر میں پہلی دفعہ اس قسم کا سوال اس پس منظر میں ہوا تو خدا تعالیٰ نے مجھے جواب اسی وقت سکھایا۔میں نے کہا کہ تمہارے نزدیک جتنا عرصہ حصہ حضرت مسیح زندہ رہے ( میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ کتنا عرصہ زندہ رہے کیونکہ ہمارا تمہارا اختلاف ہے اس بارہ میں میں کہتا ہوں کہ) تمہارے نزدیک جتنا عرصہ زندہ رہے اپنی ساری عمر میں جتنے عیسائی بنائے تھے انہوں نے اس سے زیادہ تمہارے ملک میں عیسائی مسلمان بنا چکے ہیں ہم۔وہ تو زرد ہو گیا بالکل، کیونکہ اس کے دماغ میں منصوبہ کچھ اور تھا اس نے سنا کچھ اور سر ڈال کے بیٹھا رہا،