خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 192 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 192

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۹۲ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء دعاؤں کے نتیجہ میں یہ تبدیلی پیدا ہوئی اور اسی طرح آپ کے ماننے والے دعائیں کرنے والے تھے ان کے لئے۔تو آج ہر احمدی کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اب جو اس زمانہ میں اسلام کو غالب کرنے کے وعدے دیئے ہیں وہ ضرور پورے ہوں گے کیونکہ یہ وعدے خدا نے دیئے ہیں۔یا اگر نعوذ باللہ کو ئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اس بیان میں کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدے کئے ہیں اور یہ مجھے خوشخبریاں دی ہیں اسلام کے غلبہ کی ، سچے نہیں تھے تو اس کو احمدیت چھوڑ دینی چاہیے لیکن اگر وہ سمجھتا ہے کہ آپ سچے تھے اپنے دعویٰ میں تو جو وعدے آپ کو دیئے گئے ، اپنے لئے نہیں ہمارے لئے نہیں بلکہ وحدانیت کے قیام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دلوں میں قائم کرنے کے لئے اور اسلام کے غلبہ کے لئے ، وہ یقیناً بچے ہیں۔دوسرے ہر احمدی کو نظر آ رہا ہے اور اسے اپنے ذہن میں حاضر رکھنا چاہیے اس بات کو کہ ہمارے اندر یہ سکت نہیں کہ ہم ان طاقتوں کا دنیوی تدابیر سے مقابلہ کر سکیں۔اور تیسرے یہ کہ جہاں دنیوی تدابیر سے مقابلہ انسان نہیں کر سکتا وہاں یہ حکم نہیں ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھ جاؤ اور کوئی تدبیر بھی نہ کرو۔روحانی تدبیر کرو اور یہی اُسوہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ مکی زندگی میں جب کوئی دنیوی تدبیر ممکن ہی نہیں تھی اس وقت آپ نے بلا ناغہ ہر رات عاجزی کے ساتھ تضرع کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دربار میں شور مچایا اے خدا! تیرے بندے ہیں یہ بہک گئے ، پرے ہٹ گئے ، دور ہو گئے تیرے سے، تیرے غضب کے نیچے آگئے ہیں تیری قہر کی تجلی ان کو بھسم کر کے رکھ دے اگر تو چاہے۔مگر تو بھی نہیں چاہتا یہ اور میں بھی نہیں چاہتا۔جس غرض کے لئے مجھے بھیجا ہے تو نے وہ بتاتی ہے کہ تیرا یہ منشا نہیں۔پس ان پر رحم کر۔ان کے دلوں میں انقلاب عظیم بپا کر۔چنانچہ وہی جو قتل کے درپے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے انہوں نے پھر اس قدر قربانیاں دیں اسلام کی خاطر کہ ان دعاؤں کے اثر کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا ایسا انقلاب۔