خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 710
خطبات ناصر جلد هشتم 210 خطبه جمعه یکم اگست ۱۹۸۰ء حقیقی ایمان باللہ کے تعلق میں حضور نے صفات باری کی معرفت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔وہ اللہ ذاتِ واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کوئی اور عبادت اور اطاعت کے لائق نہیں۔وہ عالم الغیب ہے۔وہی اپنی ذات کی حقیقی معرفت رکھتا ہے اس کے سوا کوئی اس کی ذات اور صفات کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ہر مشہور چیز کا بھی حقیقی علم اُسی کو ہے اُس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی نگاہ میں ہے یہ ہے اس کے احاطہ علم کی غیر محدود وسعت۔وہ الرّحمن ہے وہ اعلی وَ اَجَل ہے اور نقص سے یکسر مبرا ہے۔امن کا سر چشمہ اُسی کی ذات ہے وہ ہر قسم کے نقائص، تیرہ بختیوں اور مصائب سے پاک ہے اور سب کی پناہ وہی ہے وہی حفاظت کرنے والا ، کامل قدرتوں والا ، غلبہ پانے والا اور بلندشان والا ہے وہ سب کی حفاظت کرتا ہے اور سب پر فائق واعلی ہے اور تمام بگڑے ہوؤں کو درست کرنے والا ہے اور اپنی ذات میں کامل طور پر خود کفیل ہے۔اللہ پیدا کرنے والا ، بنانے والا اور سنوار نے والا ہے۔تمام صفاتِ حسنہ اس میں پائی جاتی ہیں۔وہ قادر مطلق اور کامل حکمتوں والا ہے وہ جو چاہتا ہے اسے کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔وہ دنیا کا مالک و آقا ، بے انتہا فضل کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا اور جزا سزا کے دن کا مالک ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نے جزا سزا کا اختیار کسی اور کونہیں دیا۔اللہ تعالیٰ حتی وقیوم اپنی ذات میں خود کفیل اور ہر حیات کا سرچشمہ اور ہر وجود کا سہارا ہے۔وہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔نہ اُس نے کسی کو جنا ہے نہ خود جنا ہوا ہے اور کوئی نہیں جو اس کا ہمسر ہو یا اُس جیسا ہو۔سرِ مو انحراف کئے بغیر تو حید باری پر صحیح رنگ میں ایمان لانا۔یہ وہ عدل ہے جو ایک بندے کے لئے اپنے خالق کے بارہ میں روا رکھنا لا زم ہے۔توحید باری پر ایمان کا اعلان کرنے اور پوری صحت کے ساتھ اعلان کرنے کی غرض سے ہی اللہ کا گھر تعمیر کیا جاتا ہے۔صرف وہی لوگ جو اس کی ذات پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اس بات کے مستحق ہیں کہ اُس کے گھر میں داخل ہوں لیکن اس کی ذات پر حقیقی ایمان رکھنا محض اس کے فضل سے ہی ممکن ہے۔سو آؤ ہم دُعا کریں۔