خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 43
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۳ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء چیزوں سے روکتی ہے جو خدا تعالیٰ کے دربار تک پہنچانے میں روک ہیں۔پس یہ عظیم کتاب ہے جو ہمیں دی گئی اور ہمارے فائدے کی کتاب ہے۔ہمارے فائدے کی کتاب ہے مضمون بہت بڑا بن جاتا ہے اگر میں اُس تفصیل میں جاؤں۔پھر کبھی موقع ملا ، خیال آیا تو کر دوں گا۔ہمارے فائدے کی کتاب ہے اس معنی میں کہ ہماری جسمانی ضرورتیں جو ہیں اُن کو پورا کرنے والی ہے۔ہمارے فائدہ کی کتاب ہے اس معنی میں کہ ہماری ذہنی جو ضرورتیں ہیں اُن کی راہنمائی کرنے والی ہے کس طرح اُن کو پورا کیا جائے۔ہماری جو اخلاقی ضرورتیں ہیں اُن کو پورا کرنے والی ہے اور جو ہماری روحانی ضرورتیں ہیں وہ ہمیں صراط مستقیم دکھا کر اُس خدا کی طرف لے جانے والی ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا۔پیدا اس لئے کیا تا اس کی صفات کا مظہر بنے کہ اس کی ہر صفت کے جلوؤں سے وہ اس کی نعمتوں کو حاصل کرے۔کتنے وسیع دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں خدا تعالیٰ کی برکات کے حصول کے۔یہ ہے قرآن جو ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس قرآن کا جو ہماری گردنوں پر ہے۔ہماری گردنیں اس جوئے کے نیچے ہیں اور قرآن کی شریعت ہماری شریعت ہے اور آج اگر کوئی انسان کہے کہ نہیں ہم اپنی شریعت بنا ئیں گے تو ہم نہیں اُس کو قبول کرنے کے لئے تیار۔ہمیں تو صرف قرآن کریم کی شریعت ہی منظور ہے وہی کافی ہے۔علی وجہ البصیرت ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ قرآن کریم ہی ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرتی اور ہماری جو آخری ضرورت کہ خدا تعالیٰ کا پیار ہمیں حاصل ہوا اور اُس کے پیار کے جلوے ہم اسی دُنیا میں اس زندگی میں دیکھنے والے ہوں یہ ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔قرآن کریم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت کچھ کہا وہ پڑھا کریں تا کہ آپ کے پیار میں ہر روز ایک نئی شدت ، ایک نیا جوش پیدا ہو۔قرآن خدا نما ہے، خدا کا کلام ہے، خدا کی باتیں ہیں اور خدا تک لے جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے ہمارے سامنے آ جاتے ہیں اس کے نتیجہ میں اس پر عمل کر کے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا کرے کہ ہم قرآن کریم کو سمجھیں۔اُس پر عمل کرنے والے ہوں۔قرآن کریم کی ہدایت کی روشنی میں ہم ہماری کوششیں اُن صحیح رستوں پر گامزن ہوں جس کے نتیجہ