خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 42
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۲ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء مسئلہ۔خدا تعالیٰ نے اُن کو پیدا کیا اور اُنہوں نے کہا خدا نے مجھے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ میں جو اسلام میرے علاقہ میں سمجھا جاتا ہے جس میں بے شمار بدعات شامل ہو گئی ہیں بدعات سے پاک کر کے سنت نبوی یعنی قرآن کریم کی ہدایت پر جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمل کیا اُس شکل میں اسلام آج مسلمانوں کے سامنے پیش کروں اور اُن کی اس بنیادی جو اُن کے اندر کمی تھی یا جو بنیادی ضرورت اُن کو درپیش تھی ، اُس کو پورا کروں۔اس وقت ہمارے اس زمانہ میں جو مہذب دنیا کہلاتی ہے ترقی یافتہ دنیا کہلاتی ہے میں نے بڑا غور کیا میں نے اُن سے باتیں کیں میں نے اُن کو سمجھا یا کسی نے اس سے انکار نہیں کیا کہ انہوں نے مسائل پیدا زیادہ کئے ہیں، مسائل حل کم کئے ہیں اور جو مسائل وہ حل نہیں کر سکے وہ صرف اسلام حل کرتا ہے اور وہ باتیں اُن کے سامنے رکھیں اور کسی کو یہ حجرات نہیں ہوئی کہنے کی کہ جوحل اسلام نے پیش کیا ہے وہ ہمارے ذہن اُسے قبول نہیں کرتے۔یہ تو اُن کے آثار تھے کہ ہم عادات سے مجبور ہو کر اپنی اُن کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں مگر کسی ایک کو یہ کہنے کی جرأت کبھی نہیں ہوئی کہ ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی۔اگر تو عادات سے مجبور ہو کر گند میں زندگی گزارنا چاہتے ہو تو تمہاری بدقسمتی ہے۔تو قرآن کریم کی عظیم ہدایت بے شمار برکات لئے ہوئے ہمارے پاس موجود ہے اور قرآن کریم کا ہر حکم۔ہر حکم انسان کی ہر طاقت کو میں نے بتایا نا کہ انسان کو اتنی طاقتیں دی گئی ہیں کہ ہر دو جہان کی ہر چیز کی صفات سے اس نے علم حاصل کر کے فائدہ حاصل کرنا ہے تو انسان کی ہر طاقت کی راہنمائی کرنے والی ہے تا کہ ابتدا سے اُسے پکڑے اور خدا تعالیٰ کے دربار تک پہنچانے تک اس کی ہدایت کرتی چلی جائے۔تو قرآن کریم کا کوئی حکم ہم پر بار نہیں۔انسان کے لئے کوئی تنگی پیدا کرنے والا نہیں ہے بلکہ فراخی پیدا کرنے والا ہے۔انسان کو دُکھ دینے والا نہیں سکھ کے سامان پیدا کرنے والا ہے۔ہر وہ حکم جس میں ہمیں کہا گیا ہے کہ ایسا کرو وہ ہماری ہر قسم کی جو طاقتیں ہیں اُن کی رہنمائی کر کے خدا تعالیٰ کے دربار تک پہنچانے والا ہے ہر وہ نہی جس میں کہا گیا ہے کہ ایسا نہ کرو، وہ ہمیں اُن