خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 40
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۰ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء کے خود ہماری عقل ہمیں کہتی ہے کہ ہم پھر اس سے آگے چلیں اور سوچیں کہ یہ اتنا بڑا نظام جو بنایا گیا انسان کے فائدہ کے لئے اور انسان کو جو اتنی طاقتیں عطا کی گئیں کہ وہ ان سے فائدہ حاصل کرے۔اس کا مقصد کیا تھا ؟ تو اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنی ذہنی طاقتوں سے دنیا کا علم اور پھر اس سے فائدہ حاصل کر کے اپنی اخلاقی زندگی میں ایک جلا اور ایک روشنی پیدا کرے اور اپنے حسن اخلاق کے جلوے ایک دوسرے پر ظاہر کرے اور اپنے ذہن کو اخلاق کی حاکمیت کے نیچے رکھے اور یہ اس لئے تھا کہ جو اخلاق کا حصہ ہے انسانی زندگی میں اس انسانی زندگی کے حصے کو اپنی روحانیت کے نیچے رکھے کہ وہی آخری مقصود ہے انسان کی زندگی کا۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: ۵۷) اور جو روحانی زندگی ہے جس طرح نہ ختم ہونے والے جو علوم ہر دو جہان میں پائے جاتے ہیں یعنی ہر چیز کی صفات اتنی ہیں کہ انسانی علم اور انسانی تحقیق ان کو اپنے احاطہ میں لے کر آخری صفت تک نہیں پہنچ سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نفس کے ایک دانے میں بھی اتنی صفات ہیں کہ جب تک انسان اس پر ریسرچ کرتا چلا جائے اس کے اندر تحقیق کرتا چلا جائے وہ خواص ختم نہیں ہوں گے ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اس طرح نکلتے چلے جائیں گے اور یہ حقیقت ہے۔ہمارا مشاہدہ تحقیق کی سائنس کی دنیا میں یہی ہے کہ کسی چیز کے خواص جو ہیں وہ ختم نہیں ہوتے۔کچھ عرصہ نئی ایجاد ہوتی ہیں پھر جس طرح جانور جگالی کرتے ہیں کھانا چبانے کی اسی طرح انسان کی عقل جو ہے اسے ہضم کرنے کے لئے اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایک وقت اس میدان میں خاموش رہتا اور آگے نہیں بڑھتا، کھڑا رہتا ہے۔پھر اس کے بعد ایک اگلی نسل اگلے قدم اٹھاتی ہے پھر اس سے اگلی نسل جیسے بھی حالات ہوں اسی میدان میں پھر وہ آگے بڑھتا ہے۔پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو کہا گیا تھا کہ ہم نے اس میدان میں جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ کر لیا اور کچھ نہیں کر سکے وہ غلط ہے۔ہزار ہا مثالیں اس کی سائنس کی دنیا سے پیش کی جاسکتی ہیں۔روحانی ہے اب جس طرح مادی دنیا جس کو ہم کائنات کہتے ہیں آسمان و زمین ، ہر دو جہان