خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 39 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 39

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۹ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء لئے۔اس وقت آگے اور بن رہی ہیں اس سے بھی بڑی لیکن اس وقت جو سب سے بڑی لیبارٹری ہے وہ امریکہ میں ہے اور انہوں نے کئی سال کے تجربوں کے بعد پچھلے سال جب میں لندن میں تھا تو اس وقت انہوں نے اعلان کیا کہ ہم نے تجربہ کیا ہے اور ڈاکٹر سلام نے جو تھیوری پیش کی ہے دنیا کے سامنے وہ درست ہے۔ہماری لیبارٹری ٹیسٹ نے اس کو صحیح ثابت کیا ہے حالانکہ اس سے پہلے چوٹی کے سائنسدان اسے غلط قرار دے چکے تھے۔یہ میں مثال اس لئے دے رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے انسان کے احاطۂ علم میں نہیں آسکتے۔خود انسان کی طاقتیں بھی اس کے علم میں نہیں آسکتیں۔یہ مثال دونوں کو ثابت کرتی ہے یعنی نیوٹن کے وقت انسان کے علم میں یہ نہیں تھا کہ اس بات کو صحیح ثابت کر سکے لیکن بعد میں جو خدا تعالیٰ نے انسان کو طاقتیں عطا کی ہیں انہوں نے ثابت کیا وہ بعد میں پتہ لگا اور جب تک انسان اس کرہ ارض پر ہے اور میں اس وقت اس کرہ ارض کی بات کر رہا ہوں اس وقت تک انسان کا علم بڑھتا چلا جائے گا۔کائنات کا علم انسان زیادہ حاصل کرتا چلا جائے گا اپنی طاقتوں کا علم بھی زیادہ حاصل کرتا چلا جائے گا کیونکہ ہر نئی دریافت انسان کے سامنے دو حقائق پیش کرتی ہے۔ایک یہ کہ کائنات کی یہ حقیقت ہے اور دوسرے یہ کہ انسان کو یہ طاقت عطا کی گئی تھی کہ اس حقیقت کو معلوم کرے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔یہ اتنا بڑا نظام جو ہے کہ بے شمار چیزیں ہر چیز میں بے شمار خواص۔انسان کو یہ طاقت کہ ہر چیز کے بے شمار خواص میں سے اپنے اپنے وقت میں حصہ لیتا چلا جائے دنیا سے واقفیت بھی اس کی زیادہ ہو، اپنے نفس سے بھی اس کی واقفیت زیادہ ہوتی چلی جائے۔یہ صرف اس لئے نہیں بنایا گیا تھا کہ کھاؤ پیو اور مرجاؤ اور اس زندگی کے بعد دنیوی زندگی نہیں بلکہ یہ نظام تو خود اس کی وسعت اور اس کی Grandeur جو ہے اور اس کی شان اور عظمت جو ہے خدا تعالیٰ نے جو نظام قائم کیا ہے کہ ایک طرف ساری دنیا کو اور دوسری طرف انسان کو دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیدا کیا یہ بتاتا ہے کہ محض چند سالہ زندگی جو صرف کھانے پینے اور عیش کرنے پر مشتمل ہو اس غرض کے لئے اتنا بڑا منصوبہ جو ہے وہ خدا تعالیٰ نہیں بنا سکتا۔اس لئے خود ہماری عقل علاوہ آسمانی ہدایت