خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 41
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۱ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء اُن کی اشیاء اپنی تعداد میں بے شمار، ہر شے، ہر چیز کی صفات خدا تعالیٰ کے غیر محدو دجلوؤں کے اثر کے نیچے آنے کی وجہ سے بے شمار، انسان اس کا علم چونکہ اُس نے فائدہ اُٹھانا ہے بے شمار اشیاء کی بے شمار صفات کا علم حاصل کر کے اُس سے فائدہ اُٹھانے کی جو طاقت ہے وہ بھی غیر محدود ہمیں سمجھنی پڑے گی۔جہاں تک غیر محدود خدا تعالیٰ کے مقابلے میں تو ہر چیز محدود ہے۔انسانوں کے نقطہ نگاہ سے وہ نہ ختم ہونے والی چیز ہے اسی طرح جو روحانی زندگی ہے اُس میں بھی کوئی غیر محدود چیز ہمارے ہاتھ میں ہونی چاہیے تب ہم اسی شکل میں آگے روحانی میدان میں بڑھ سکتے ہیں اور وہ ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل قرآن کریم کی شکل میں ایک ہدایت ملی جس نے یہ اعلان کیا اور سچا اعلان کیا کہ یہ ایک ایسی تعلیم ہے کہ قیامت تک دُنیا کے ہر خطہ کے انسان کو جو بھی مسئلہ در پیش ہو گا، اس کا حل اس کے اندر سے نکل آئے گا۔چودہ سوسال کی انسانی زندگی یہ بتارہی ہے کہ کسی صدی میں بھی کوئی ایسا مسئلہ انسان کے سامنے نہیں آیا اور میں یہ علی وجہ البصیرت بات کر رہا ہوں۔کسی صدی میں بھی انسان کے سامنے کوئی ایسا مسئلہ نہیں آیا کہ انسان نے قرآن کی طرف توجہ کی ہو اُس کے حل کرنے کے لئے اور اُسے حل نہ کر سکا ہو۔اگر قرآن کریم کی طرف توجہ ہی نہ کی ہو تو قرآن کریم پر تو الزام نہیں نا عائد ہوتا لیکن کسی صدی میں بھی کوئی ایسا مسئلہ انسان کو پیش نہیں آیا کہ قرآن کی طرف توجہ کی گئی ہو اور وہ مسئلہ حل نہ ہو سکا ہو اور کوئی صدی ایسی نہیں گزری کہ جس میں خدا تعالیٰ نے ایسے لوگ نہ پیدا کئے ہوں جو قرآن کریم کی طرف توجہ نہ کرنے والے ہوں۔تو ہر صدی میں مطہرین کا ایک گروہ پیدا ہوا جو قرآنی علوم خدا سے سیکھ کر اپنے زمانہ اور اپنے علاقہ کے مسائل کو حل کرنے والے تھے مثلاً کئی دفعہ پہلے بھی نام آیا ہے وہ دُور کا علاقہ ہے وہ دُنیا کے نزدیک بہت تحقیر سے اُس کا نام لیا جاتا ہے، افریقہ کا بڑ اعظم۔تو اس میں عثمان فودیؒ خدا کے ایک پیارے پیدا ہوئے جن کی وفات ہوئی ۱۸۱۸ء میں غالباً ۱۸۔۱۸۱۷ء میں اغلباً ۱۸ ء ہی ہے اور ان کے علاقے میں بسنے والے انسانوں کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اسلام سے دُور چلے گئے تھے اور بے شمار بدعات اسلامی تعلیم کے اندر وہاں پیدا ہو گئی تھیں اور جو حقیقی روحانی برکات وہ حاصل کر سکتے تھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے اس سے وہ محروم ہو گئے تھے یہ تھا اُن کا