خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 522
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۲۲ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء ایک بڑی لمبی حدیث ہے غالباً بخاری میں ہے جہاں تک مجھے یاد ہے بچپن میں میں نے پڑھی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تقسیم اوقات کیا ہے قیام میں ، رکوع ، سجدہ ، قعدہ، بین السجدتین، جو ہیں اس میں ، اس میں بڑی تفصیل سے ذکر ہے کہ وقفوں کی نسبتیں کیا تھیں وقت کے لحاظ سے جہاں ضرورت ہے اس کی وہ ہمیں بتادی۔ایک تو جو تلاوت کی جاتی ہے یا جس کی اجازت دی گئی ہے جتنی لمبی تلاوت کی اس نے وقت بتایا جو دعائیں ہیں انہوں نے وقت بتایا۔اس کا ایک حصہ تصوف کا رنگ ، عشق کا رنگ، مستی کا رنگ بھی اختیار کرتا ہے۔ایک ہے دین العجائز ، موٹی موٹی باتیں ہیں۔موٹی موٹی سمجھ والے آدمی جو ایک عام مسلمان کا معیار ہے لیکن جب میں ایک عام مسلمان کا معیار کہتا ہوں تو میں کوئی گری ہوئی چیز کا ذکر نہیں کر رہا۔وہ عام مسلمان کا معیار بھی آسمانوں کی رفعتوں پر ہمیں نظر آتا ہے۔کوئی غیر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تو یہ مسائل بھی وہ بتاتے ہیں آداب بھی انہیں بتانے چاہئیں۔اور ان کا میں نے بتایا کہ اصل کام تو آداب سکھا نا موٹے موٹے پھر مسائل بتانا ہے اور ضرورت اور اہمیت بڑی ہے۔میرے پاس خط آتے ہیں ، جی ! ہمارے پاس ایک سال معلم رہا اب کہیں اور بھیج دیا گیا ہے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔یہ تو درست ہے کہ ایک سال آپ کے پاس رہنے کے بعد بھی آپ کو ضرورت ہے۔ہر وقت وہاں رہنا چاہیے لیکن اس میں بھی کوئی شک اور شبہ نہیں کہ آپ کے پاس ایک سال رہنے کے بعد جو آپ کی ضرورت ہے اس سے زیادہ اس دیہاتی جماعت کی ضرورت ہے جہاں ایک سال بھی نہیں رہا وہ۔رہا ہی نہیں ایک دن بھی۔اس واسطے وہ بدل کے بھیجنے پڑتے ہیں۔اگر جتنی جماعتیں پاکستان میں ہیں اتنے معلمین ہوں یا اس سے دُگنے ہوں کیونکہ ایک بھی بعض دفعہ نہیں سنبھال سکتا گاؤں کو۔کام کی زیادتی کی وجہ سے، تو پھر تو ٹھیک ہے۔پھر آپ کہیں کہ جی! ہم سے لے لیا گیا۔ہمیں دیں لیکن اگر وقف جدید کے معلم اپنی تعداد میں تھوڑے اور یہ خدا کے فضل سے بڑھتی ہوئی جماعت اپنی تعداد میں اس کے مقابلے میں بہت بڑی اور ہر آن بڑھنے والی ہو تو معلمین کی تعداد بھی ہر آن بڑھنے والی چاہیے۔اگر ان کی تعداد نہ بڑھے۔ان کی تعداد تو اُس نسبت سے زیادہ بڑھنی چاہیے کیونکہ وقفہ بڑا ہے یعنی اگر نوسو