خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 521
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۲۱ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء ہے اخلاقی میدانوں میں آگے بڑھنے کے لئے۔جس نے آداب نہیں سیکھے وہ اخلاق نہیں سیکھ سکتا جس نے اسلامی اخلاق نہیں سیکھے وہ اسلام کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق روحانی میدانوں میں آگے نہیں بڑھ سکتا آسمانی رفعتوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔عام طور پر ہمارا جو شاہد مبلغ ہے وہ گہرے فلسفوں میں تو جاتا ہے اسلام پر اگر اعتراض کوئی کرے غیر مسلم تو بڑے اچھے جواب دیتا ہے۔کچھ اس نے سیکھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ اس میدان میں اللہ تعالیٰ سے وہ سیکھتا ہے عین اس وقت جب وہ اعتراض کو سنتا ہے لیکن بہت کم ہیں جو اس طرف توجہ کرتے ہیں کہ ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ جماعت کو اسلام کے بتائے ہوئے جو آداب ہیں وہ سکھا ئیں مثلاً مسجد ہے اس کے آداب ہیں۔ان کا اخلاق کے ساتھ تعلق نہیں آداب ہیں مسجد کے ، وہ آنے چاہئیں ، آداب ہیں مجلس کے وہ آنے چاہئیں۔آداب ہیں اس مجلس کے جس میں امام وقت بیٹھا ہوا ہو وہ آنے چاہئیں۔آداب ہیں کھانے پینے کے وہ آنے چاہئیں۔آداب ہیں کپڑا پہننے کے وہ آنے چاہئیں۔اب یہ کہ پہلے دایاں پاؤں جوتے میں ڈالو اور بعد میں بایاں ان کا اخلاق کے ساتھ تعلق نہیں ، آداب کے ساتھ تعلق ہے۔حقیقت بڑی پیاری ہے۔اس کے پیچھے لیکن تعلق اس کا آداب کے ساتھ ہے۔کپڑا پہنے کپڑا اتارنے کے آداب ہیں۔ہزار قسم کے آداب اسلام نے سکھائے۔ایک تو وقف جدید والوں کو چاہیے کہ وہ آداب کے اوپر بھی کتابیں لکھنی شروع کریں اور میں بتا یہ رہا ہوں کہ زیادہ ذمہ داری معلمین کی آداب سکھانے پر ہے کیونکہ علمی لحاظ سے ان کو ہم نے اس طرح تعلیم نہیں دی اسلام کی قرآن کریم کی تفسیر کی جس طرح مبلغین کو ہم دیتے ہیں یا جو لوگ حضرت مسیح موعود کی کتب کو بار بار پڑھنے والے ہیں خواہ وہ شاہد نہیں ان کو جو علم ہے وہ وقف جدید کے معلم کو نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وقف جدید کے معلم کی افادیت نہیں۔وہ عام موٹے موٹے مسائل بھی بتا تا ہے لیکن بنیادی طور پر اس نے پالش کر کے ان کو انسان بنانا ہے۔وہ انسان جو مسلمان کی حیثیت سے جب دوسروں کے سامنے آتا ہے تو دیکھنے والی نگاہ اس میں اور غیر مسلم میں ایک فرق پاتی اور محسوس کرتی ہے لیکن وضو کا طریق نماز میں کھڑے ہونے کا طریق، ایک نماز پڑھنے کی جو سنت نبوی ہے،