خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 523
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۲۳ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء جماعتیں فرض کریں یا ایک ہزار جماعت ہو اور دو سو معلم ہو تو ان کی تعداد تو اس نسبت سے بڑھنی چاہیے کہ ایک ہزار بن جائے ، اس سے قبل کہ جماعتوں کی تعداد ہزار کی بجائے گیارہ سو بن جائے تو ویسے تو جب وہ گیارہ سو ہو جائے تو پھر گیارہ سو ہونے چاہئیں۔جب دو ہزار بن جائے تو دو ہزار بننے چاہئیں۔جب ایک لاکھ بن جائے تو ایک لاکھ معلم ہونا چاہیے آپ کے پاس۔اس دقت کے پیش نظر میں نے ایک آنریری معلم عام کی اصطلاح وضع کر کے کام شروع کروایا تھا لیکن اس کے اندر بعض قباحتیں بھی پیدا ہوگئیں اور ضرورت بھی پوری نہیں ہوئی۔اس واسطے آج میں یہ اعلان بھی کرنا چاہتا ہوں کہ جن کو ہم اعزازی معلم کہتے رہے ہیں ان کو آئندہ سے اعزازی معلم نہیں کہیں گے بلکہ معلم درجہ دوئم ان کو ہم کہیں گے۔معلم درجہ اول اور معلم درجہ دوم ان کا ہو گا لیکن اس کی طرف جماعت نے توجہ نہیں کی۔میں نے کہا تھا کہ معلمین کا کافی تعداد میں فوری طور پر حاصل ہونا قریباً ناممکن ہے اس واسطے جو پرانا طریقہ تھا شروع اسلام میں رائج ہوا کہ ہر علاقے سے علاقے کو سنبھالنے کے لئے اور ہر شہر اور قصبہ سے اس کو سنبھالنے کے لئے آدمی ملیں۔اسی سے یہ نتیجہ عقل نکالتی ہے اس شہر اور قصبہ کو سنبھالنے کے لئے آدمی آنے چاہئیں تا کہ تَفَقُهُ فِي الدِّين حاصل کریں اور جو کام معلم کا ہے وہ جا کے کریں۔یہاں ان کو تین مہینے کا غالباً نصاب تھا ان کا لیکن کتابی نصاب کی طرف توجہ دی گئی اور خود ان کی اپنی تربیت اور ان کے اپنے مزاج کو بدل دینے کے لئے کوشش نہیں کی گئی۔جو آتا ہے جس کو درجہ دوم کا اب ہم معلم کہیں گے اس کی ذہنیت ایک معلم کی ہونی چاہیے۔وہ اتنخواہ نہیں ہے وہ جا کے اپنا کام کرے گا لیکن خالی وقت میں جب مسجد میں آئے گا اس کو ابتدائی آداب اسلام موٹے موٹے مسائل جو ہیں وضوکس طرح کرنا ہے اور نماز کس طرح ادا کرنی ہے وغیرہ وغیرہ موٹے موٹے مسائل سے اس کو آگا ہی ہوگی لیکن اس کے اندر یہ جذ بہ اگر ہم پیدا نہیں کرتے کہ اس نے جاکے سکھانا ہے اور جہاں کہیں علم کی کمی کے نتیجہ میں عمل صالح پر دھبہ لگ رہا ہے اس کو دور کرنا ہے۔علم نہ ہو تو دھبہ لگ جاتا ہے نا۔وہ مثال تو صادق پوری نہیں آتی لیکن جب ۱۹۶۷ء میں میں نے اعلان کیا کہ مسجد تو خدا کا گھر ہے اس کے دروازے ہر مؤحد کے لئے خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والے کے لئے کھلے ہیں