خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 360
خطبات ناصر جلد هشتم خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۷۹ء چند پہلو یہ ہیں ان پر روشنی پڑ جائے گی۔سورہ بقرہ کی ۱۲۰ ویں آیت میں ہے۔إنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ ہم نے تجھے یقینا حق اور راستی کے ساتھ بھیجا ہے۔سورۃ الِ عمران ط کی آیت ۱۰۹ میں ہے۔تِلْكَ ايْتُ اللهِ تَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَ مَا اللهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَلَمِینَ یہ اللہ کی آیات ہیں جو حق پر مشتمل ہیں اور جنہیں ہم تجھے پڑھ کر سناتے ہیں اور اللہ تمام جہانوں پر کسی قسم کا ظلم کرنا نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہے کہ دوسرے ( یہ اس کی تفسیر ہے کہ ) اس کے بندے ظلم کریں۔اس کی تعلیم کا کوئی ایک حصہ بھی ایسا نہیں جو ظالمانہ ہو کوئی ایسا حکم نہیں جو کسی کے حقوق کو تلف کرنے والا اور ظلم کو برداشت کرنے والا ہو۔ان آیات میں دونوں باتوں کا ذکر آ گیا۔ایک تو راستی کا۔جھوٹ ناراستی ،فریب ، دھوکا اور کذب کی کوئی آمیزش اسلامی تعلیم میں نہیں پائی جاتی اور دوسرے یہ بات آگئی کہ اسلامی تعلیم ہر قسم کے ظلم کی جڑ کو کاٹنے والی ہے۔وَمَا اللهُ يُرِيدُ ظلما للعلمین اور یہ تعلیم اس ظلم کی جڑ کو ہی نہیں کاٹتی جو صرف انسانوں سے تعلق رکھتا ہو بلکہ اس ظلم کی جڑ کو بھی کاٹ رہی ہے جو عالمین سے یعنی ہر دو جہان سے تعلق رکھنے والا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ اسلامی تعلیم میں ہر چیز کے حقوق متعین کئے گئے ہیں اور ان کی حفاظت کا سامان کیا گیا ہے۔اسلامی تعلیم کامل صداقت اور راستی اور ہر قسم کے ظلم سے محفوظ اور ہر قسم کے ظلم کو خواہ انسانوں پر ظلم کا سوال ہو یا غیر انسان پر ظلم کا سوال ہو رو کنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَقَدْ جَاء و ظُلْمًا وَزُورًا (الفرقان : ۵) یہ ایک آیت کا آخری حصہ ہے اس سے پہلے ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور فرقانِ عظیم کا یہ انکار ظلم کی راہوں کو اختیار کرنے کا ذریعہ بنتا ہے اور وہ جھوٹ اور باطل کے رستے پر چلتے ہیں اس انکار کے نتیجے میں جیسا کہ میں نے بتایا اسلام کی مخالفت شروع دن سے ہی ان دو بنیادی نقطوں کے گرد گھومی۔اسلام نے مدافعت کی لیکن ظلم نہیں کیا۔اسلام نے اپنی تعلیم کو پھیلا یا لیکن سچی اور کھری بات کر کے پیار اور