خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 359
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۵۹ خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۷۹ء کریم نے ذکر کیا ہے۔اس قدر جھوٹ بولا انہوں نے کہ حد کر دی۔جنہیں موقع نہیں ملا ان کی کتب پڑھنے کا ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا بہت کچھ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتانے کے لئے کہا کہ آپ نے اس زمانہ میں جب ابھی کتا بیں عام نہیں ہوئی تھیں۔کئی ہزار جھوٹے اعتراض اسلام کے اوپر عیسائیوں کی کتب سے جمع کئے اور آپ نے جو جمع کئے ان کے بھی اور جو دنیا کی فضا میں اسلام کے خلاف اور اسلام کے اللہ کے خلاف اور اللہ کے محمد کے خلاف جھوٹ بولا جا رہا تھا اس کے بھی جواب دیئے۔اس جھوٹ کو جھوٹ ثابت کیا اور پھر جو حقیقت تھی اللہ الحق کے متعلق اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم مَظْهَرُ أَتَمِّ الْحَقِّ کے جو تھے ان کے متعلق اور اسلام کی عظمت اور شان اور اس کی حقیقت اور صداقت کے متعلق وہ اپنی کتب میں کھول کر بیان کر دی اس رنگ میں کہ قیامت تک اب ہم اسلام دشمن کا مقابلہ کر سکتے ہیں انہوں نے ظلم کئے۔ظلم کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا ظلم ہوتا ہے مال لوٹ کر ، مسلمانوں کے مال لوٹ لئے ظلم ہوتا ہے جانیں لے کر ، جس وقت یہ کالونیز (Colonies) انہوں نے بنائیں اس وقت جانیں لے لیں۔ظلم ہوتا ہے فریب سے ، اسلام جیسی عظیم تعلیم اور ایک انمول موتی سے فریب کے ذریعہ محروم کرنے کا ظلم بھی انہوں نے کیا۔افریقہ میں ان کی جو تبلیغ تھی اس کا بڑا حصہ یہ تھا کہ مخلص دل والے باپوں کے بچے اگر عیسائی سکولوں میں داخل ہوئے تو تبلیغ کئے بغیر، انجیل کی تعلیم بنائے بغیر اسلام کے او پر اعتراض کئے بغیر پہلے دن ان کے نام بدل کے عیسائی نام رکھ دیئے۔محمد نام کا بچہ داخل ہوا تھا اور پہلے دن رجسٹر میں ایم پیٹر رکھا گیا اس کا اور اس قسم کے آہستہ آہستہ اس کے دماغ کے اوپر اثر ڈالے کہ جب وہ سکول سے نکلا تو اس کو یہ بھول گیا کہ ایم کس لفظ کا مخفف ہے۔اس کو یہ یاد رہا کہ میں پیٹرا ایک عیسائی ہوں کوئی ایسا پہلو ظلم کا آپ سوچ نہیں سکتے ، کوئی ایسا پہلو ظلم کا تاریخ نے ریکارڈ نہیں کیا جو مسلمان کے خلاف وہ ظلم مسلمان کے دشمنوں نے نہ کیا ہو تو جھوٹ اور ظلم کے گرد ساری اسلام کی مخالفت گھومی۔قرآن کریم نے ان باتوں کو لیا اور بیان کیا ہے۔لمبا مضمون ہے بیبیوں آیات میں مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔میں نے چند ایک ان میں سے لی ہیں۔