خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 195 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 195

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۹۵ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء بات ہی نے اس نے کرنی چھوڑ دی۔خیر کوئی پندرہ بیس منٹ کے بعد میں نے ہی اسے مخاطب کیا۔میں نے کہا تم نے مجھ میں دلچسپی لینی چھوڑ دی ہے کوئی اور سوال کرو۔سوال بیچارہ کیا کرتا۔پھر تو کتا ہیں خرید کر لے گیا۔اب یہ تو خدا تعالیٰ نے اسی وقت میرے ذہن میں ایسا جواب ڈالا جو اس کو خاموش کرنے والا تھا اور سارے جو صحافی تھے وہ ہنس پڑے اور انہوں نے میرے جواب سے زیادہ اثر لیا۔جو اثر اس نے لیا وہ تو اور تھا۔اس کے چہرے پر تو نا کامی کا اثر تھا اور ان کے چہروں پر بشاشت کا اثر تھا۔پھر میں نے ان کو بتایا کہ بات یہ ہے کہ اس وقت تک ہم نے جو کام کیا ہے اسے تعداد سے نہیں جانچنا چاہیے۔میں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی بھی تو برات کرنی تھی نا۔میں نے کہا جب الہی سلسلے شروع ہوتے ہیں تو اس وقت سر نہیں گنے جایا کرتے اس وقت دلوں میں جو آہستہ آہستہ تبدیلی ہوتی ہے، اس کو دیکھا جاتا ہے اور وہ ہم نے تمہارے ملک میں بہت پیدا کر دی ہے۔ایک وقت تھا کہ لوگ گالی دیئے بغیر نام ہی نہیں لیتے تھے اسلام کا۔اب وہ عزت کے ساتھ، احترام کے ساتھ اسلام کا نام لینے لگ گئے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے لگ گئے ہیں۔بڑی انقلابی ذہنی تبدیلی ایک پیدا ہو گئی ہے بہر حال۔تو ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ دعا کو اپنی عادت بنائے اور ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ اپنی دعا کا بڑا حصہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کو دلوں میں گاڑنے پر خرچ کرے اور خدا سے کہے۔اے خدا! دنیا کے دل تجھ سے دور ہو گئے۔تجھے بھلا دیا انہوں نے۔تیری معرفت حاصل نہیں انہیں ، تجھے جانتے نہیں۔تیری نہ صفات کو جانتے ہیں ، نہ تیری ذات کو جانتے ہیں۔مگران دلوں میں تبدیلی تو ہی پیدا کر سکتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کا دل تمثیلی زبان میں تاکہ ہمیں سمجھ آجائے ) خدا تعالیٰ کی انگلیوں میں اس طرح ہے۔انگلیوں کو ذرا حرکت دیں تو اس کا زاویہ بدل جائے گا۔زاویہ بدلنے کی دیر ہے نا۔وہی جو دشمن ہے وہ دوست بن جاتا ہے۔وہ جو قاتل بن کے گھر سے نکلا تھا ( حضرت عمر قاتل بن کے گھر سے نکلے تھے ارادہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آج قتل کر دینا ہے ختم ہو قصہ ) وہ خلیفہ بن کر کسری اور قیصر