خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 196
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۹۶ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء کی حکومتوں کو شکست دینے والا بن گیا۔اتنا انقلاب عظیم آیا اس شخص میں اور کتنا اس کی قربانی کو اس کے پیار اور فدائیت کو اور اس انقلاب عظیم کو خدا نے قبول کیا۔یہ میں ایک ہی آدمی کی زندگی کے دو ایک واقعات بتا رہا ہوں کہ گھر سے نکلے تھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی نیت سے لیکن خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے کہ دل بدل گیا اور اتنا بدلا کہ خدا کو اتنا پیارا ہو گیا وہ دل کہ ان کی خلافت میں کسری کی حکومت مٹادی گئی۔قیصر کی حکومت مٹادی گئی۔دنیا کی دو بڑی طاقتیں تھیں یہ۔ان کے مقابلہ میں عرب کے بدوؤں اور ان کی طاقت کا جو تناسب تھا۔بظاہر وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔اسی شخص کی خلافت کے زمانہ میں انہوں نے ( ان دو بڑی طاقتوں نے ) شکست کھائی اور وہ مٹادی گئیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے گھر سے نکلا تھا۔خدا کے ہاتھ میں دل تھا۔خدا نے زاویہ بدل دیا دل کا۔وہ جو دشمن تھا وہ عاشق زار بن گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کشف میں کسریٰ کا سونے کا ایک زیور ایک صحابی کے ہاتھ میں دیکھا۔آپ کے بعد جب مال غنیمت آیا تو وہ بھی آگیا۔حضرت عمرؓ نے کہا پہنو۔انہوں نے کہا مردوں کو تو سونا پہننا منع ہے۔انہوں نے کہا پہنتے ہو یا نہیں میں نے تو کشف کو ظاہری طور پر بھی پورا کرنا ہے۔خدا کی شان ہے یہ اپنا کچھ نہیں رہا۔پھر ہر سانس جو تھا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں لیا جار ہا تھا۔تو یہ انقلاب آتے ہیں دنیا میں۔بعض کہتے ہیں کہ جی ہم تھوڑے ہیں ، ہم طاقت میں نہیں۔ٹھیک ہے، کون کہتا ہے طاقت ہے؟ یہ کون کہتا ہے تعداد زیادہ ہے ہماری کون کہتا ہے ہمارے پاس حکومتیں ہیں ، کون کہتا ہے ہمارے پاس دنیا کے خزانے ہیں ، کون کہتا ہے ہمارے پاس سارے ہیرے اور جواہرات ہیں۔کوئی نہیں کہتا۔لیکن میں ایک چیز کہتا ہوں اگر تم خدا کے ہو گئے تو خدا تمہارے ساتھ جو تمام خزانوں کا مالک ہے اس کے بعد کسی اور چیز کی تمہیں ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس حقیقت اور صداقت کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور اس کے مطابق