خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 162 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 162

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۶۲ خطبه جمعه ۲۰ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء مسائل حل کرنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور حل نہیں کر سکے۔پھر بھی یہ دعویٰ کہ ہم تو بہت مہذب ہیں۔ساری دنیا پر حکومت کرنے کا ہمیں حق ہے۔میں نے کہا ، ابھی تک اپنے بھائی کو معاف کرنا تم نے نہیں سیکھا۔جرمنی میں میں نے کہا تم دو عالمگیر جنگیں لڑ چکے ہو۔جرمن اور اس کے ساتھی ایک طرف تھے اور امریکہ اور روس اور ان کے ساتھی دوسری طرف۔میں نے کہا جب جنگ ہوتی ہے تو ایک نے بہر حال ہارنا ہے۔اتفاق ہوا دونوں دفعہ تم ہارے تمہیں معاف نہیں کیا انہوں نے۔اتنا ظلم کیا ان لوگوں نے کہ حد نہیں۔وہ اچھی طرح ان کو یاد دلا کر کہ کن مسائل اور مشکلات میں سے گزرے ہیں۔میں نے کہا کہ یہ تمہارے حل کرنے کا مسئلہ نہیں۔جس نے حل کرنا تھا وہ مسئلہ حل کر چکا ایک اُسوہ پیدا کر دیا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تیرہ سال کی زندگی میں اور پھر آٹھ سال کے قریب کم و بیش مدنی زندگی میں ہیں سال تک ہر قسم کا دکھ اور تکلیف ان کو دی گئی۔عورتوں کو نہایت بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا۔مردوں پر مظالم ڈھائے گئے اور بھوکا مارنے کی کوشش کی گئی۔کوئی ایسی ایذا نہیں تھی جو پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی اور جب خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے حالات بدل دیئے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آپ مکہ کے باہر آکے ٹھہرے اس وقت رؤسائے مکہ جو سارا عرصہ دکھ دینے میں اپنی زندگی گزار چکے تھے ان کو یہ نظر آگیا تھا کہ حالات بدل گئے ہیں اس وقت ہم اگر میان میں سے تلوار نکالیں گے حماقت کریں گے۔انہوں نے تلوار میں اپنی میانوں میں سے نہیں نکالیں۔اتنے حالات بدل چکے تھے اس وقت، ان کو یہ پتا تھا کہ یہ شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس پوزیشن میں ہے، اتنی طاقت ہے اس کی کہ جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کرے اور سلوک کیا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھ دینے والوں سے؟ جنہوں نے ایک سانس سکھ کا نہیں لینے دیا تھا اس نے کہا جاؤ سب کو معاف کرتا ہوں لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ اور يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ۔میں معاف ہی نہیں کرتا بلکہ تمہارے لئے دعا بھی کروں گا کہ خدا بھی تمہیں معاف کر دے۔میں نے کہا وہ نمونہ ہے تمہارے سامنے تم لڑتے ہو اور معاف نہیں کرتے ، ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے۔اسلام نے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا دیکھو۔اگر کوئی بڑوں کی عزت نہیں کرے گا تو وہ میرے اُسوہ پر نہیں عمل کر رہا۔اگر کوئی -