خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 115
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۱۵ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۹ء اس کے ایک ظاہری معنی ہیں ایک صوفیا نے معنی کئے ہیں اور انہوں نے یہ معنی کئے ہیں کہ اپنے نفس سے دوری یعنی اپنے نفس کی خواہشات کو پورا نہ کرنا اپنے نفس کا ایک وطن ہے اس کی عادتیں ہیں جہاں وہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ان کو چھوڑ نا خدا کے لئے بے نفس ہو جانا جن چیزوں سے محبت اور پیار ہے ان کو ترک کر دینا۔خدا تعالیٰ کے لئے ایذا کو برداشت کرنا اور ایذا کو ایذا نہ سمجھنا اور جو شیطانی وساوس کی یلغار ہو انسان پر اس کے خلاف جنگ لڑنا ( قاتِلُوا ) ، دفاعی جنگیں کرنا۔پس صوفیا اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ شیطانی وسوسوں کے خلاف جنگ کرنا کامیابی کے ساتھ اور شیطان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہ دینا کہ وہ جسے خدا نے اپنا بندہ بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔اسے شیطان اپنا بندہ بنادے اور خدا کی راہ میں قربان ہو جانا (قُتِلُوا ) شہادت پانا اور ہر چیز قربان کر کے بھی خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول نہ لینے کے سامان پیدا کرنا۔یعنی یہ نہ برداشت کرنا کہ خدا ناراض ہو جائے۔دنیا جائے ، رشتہ دار جائیں، تعلقات ٹوٹیں اپنے بیگانے ہوجائیں، جو ہو سو ہولیکن انسان خدا کے لئے اپنے نفس پر ایک موت وارد کرے۔صوفیا اس کو شہادت کہتے ہیں اور ظاہری طور پر بھی پھر بسا اوقات بعض لوگوں کو خدا کے حضور جان پیش کرنی پڑ جاتی ہے۔تو یہ دس شرائط یہاں قبولیت دعا کی بیان ہوئی ہیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دعا کی قبولیت کا حق (اسی کے کہنے پر) پیدا کر لیتی ہے ورنہ انسان کا کوئی حق نہیں خدا پر۔لیکن خدا کہتا ہے اگر یہ دس باتیں تم اپنے اندر پیدا کرو گے تو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔اُدعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ سارا دن خدا کو بھولے رہو۔ساری راتیں اپنی غفلت میں بسر کرو اور پانچ منٹ خدا کے حضور دعا کر لو اور سمجھو کہ خدا پر فرض ہو گیا کہ خدا تمہاری دعاؤں کو قبول کرے۔اسے تمہاری حاجت نہیں تمہیں خدا کی حاجت ہے۔سارے کا سارا خدا کا ہوجانا جسمانی لحاظ سے بھی قلبی اور روحانی لحاظ سے بھی اور جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ذکر اللہ میں مشغول رہنا قلب و روح کا مصنوعات باری میں تفکر کرنے کے بعد صحیح نتائج نکالنا، ربوبیت خداوندی کا اعتراف کرتے ہوئے حمد و ثنا میں مشغول رہنا ، اللہ تعالیٰ کو ہرایسی چیز سے پاک سمجھنا جو اس کی طرف عبث اور باطل کو منسوب کرنے والی ہو، اس کی راہ میں ہجرت کرنا، بے وطنی کو قبول کرنا،