خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 116
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۱۶ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۹ء ہر قسم کی اندرونی اور بیرونی ایذاء کو برداشت کرنا، شیطانی حملوں کا کامیاب مقابلہ کرنا اور فنا کی حالت اپنے پر طاری کر لینا۔خدا کہتا ہے میں ایسے بندوں کی دعائیں اپنے فضل سے سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی بات منوائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا کے فضل سے ہی انسان جنت میں جاتا ہے اپنے کسی عمل سے نہیں۔یہاں بھی خدا تعالیٰ نے جب دعا قبول کر کے ثواب دینے کا ذکر ہوا ہے تو فرمایا کہ لادخِلَنَّهُم جَنَّتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الأَنْهرُ۔میرے فضل سے جنتیں مل گئیں خدا کی رضا کی۔یہ نہیں کہا تم نے دس شرائط پوری کیں اس لئے اس نے جنت میں بھیج دیا۔یہ کہا ہے ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللهِ یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ثواب ہے۔تمہارے اپنے عمل کا نتیجہ پھر بھی وہ نہیں ہو گا۔لیکن تم اس قابل ہو جاؤ گے کہ خدا تعالیٰ اگر چاہے تو تم سے پیار کرے۔باقی جو خود نا پاک بنتا ہے خدا تعالیٰ جو پاکوں کا پاک ہے۔اس ناپاک سے کیسے پیار کرنے لگ جائے گا۔اس کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لیکن ثواباً مِّنْ عِنْدِ اللهِ ہے یعنی دس شرائط پوری کرنے کے بعد دعا کا قبول ہونا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہونا وہ بھی انسان کے کسی اپنے فعل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ محض ثوابًا مِنْ عِنْدِ اللہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ہے جو اسے مل رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس حقیقت زندگی کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور ہم جیسے بھی ہیں کمزور و ناتواں اور غافل ہمیں توفیق دے کہ وہ ہم سے پیار کرنے لگ جائے اور جب ہم پر اس کا فضل ہوتو شیطان ہمارے دل میں اس وقت بھی یہ وسوسہ نہ پیدا کرے کہ گویا ہم نے اپنے کسی عمل کے نتیجہ میں خدا کے پیار کو حاصل کیا بلکہ پھر بھی ہم یہی سمجھیں کہ خدا تعالیٰ کا پیار ہمیں اس لئے ملا کہ خدا تعالیٰ نے یہ چاہا کہ ہم پر فضل کرے اور ہم سے پیار کرے ورنہ نالائق مزدوروں سے زیادہ ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے خدا کے حضور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔آمین (روز نامه الفضل ربوه ۲۱ رمئی ۱۹۷۹ء صفحه ۲ تا ۵)