خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 293 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 293

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۹۳ خطبہ جمعہ ۹؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کے قریب جو جگہ کی کمی واقع ہو گئی تھی اس میں سے ہم اس وقت تک صرف چالیس ہزار مربع فٹ کی کمی ان مہمان خانوں کے نتیجہ میں دور کر سکے ہیں۔وقت کے ساتھ ضرورت بڑھ رہی ہے لیکن اگر اسی کو لیا جائے تو باقی ۴۰ ہزار مربع فٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے بہر حال ربوہ کے مکینوں نے انتظام کرنا ہے اور ربوہ کے مکانوں نے اس کے لئے گنجائش نکالنی ہے۔پچھلے سال مستورات بہت بڑی تعداد میں اپنے واقف کاروں اور اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں ٹھہر گئی تھیں اور اس طرح مستورات کی رہائش گاہوں میں جو بہت زیادہ کمی واقع ہو گئی تھی اس کمی کا احساس نہیں ہوا۔وہ ٹھہر گئیں اور ٹھہرانے والوں نے ٹھہرالیا اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی اور وہی جزا بھی دے۔اس دفعہ مستورات کی قیام گا ہیں یعنی جلسہ سالانہ کا مہمان خانہ پچاس فی صد سے زیادہ بن گیا ہے لیکن اس کے علاوہ یہ انتظام بھی کیا گیا ہے کہ دارالضیافت کا ایک حصہ مستورات کے ٹھہرنے کے لئے علیحدہ کر دیا جائے تاکہ ہماری بہنوں اور ہمای بزرگ مستورات کو تکلیف نہ ہو۔پہلے سارے حصے میں مرد ہی ٹھہرتے رہے ہیں لیکن اس کا ایک حصہ آسانی سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے اور اس حصے میں جو مرد ٹھہرتے تھے ان کے لئے کوئی اور انتظام کیا جائے گا۔بہر حال الرِّجَالُ قَوَمُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء : ۳۵) عورتوں کا خیال رکھنے کی ذمہ داری خدا تعالیٰ نے مردوں پر ڈالی ہے اور ہمارے بھائی بشاشت کے ساتھ اس ذمہ داری کو باہیں گے اور احمدی مرد احمدی مستورات کے لئے بشاشت کے ساتھ جگہ خالی کر دیں گے۔ویسے تو انتظامی لحاظ سے وہ جگہ خالی ہو ہی جائے گی یہ بشاشت ہی ہے جو ان کو ثواب کا مستحق ٹھہرا دیتی ہے۔تعلیمی ادارے جو گورنمنٹ نے بغیر معاوضہ دیئے اپنی تحویل میں لئے تھے ان کے متعلق ابھی آخری فیصلہ حکومتی ادارہ تعلیم کی طرف سے نہیں ہوا۔یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیکی کی توفیق عطا کرے اور وہ ان اداروں کو اس استعمال کے لئے دے دیں۔پھر ہر قسم کی سہولت پیدا ہو جائے گی اور ہماری بڑھتی ہوئی ضروریات پوری ہو جائیں گی لیکن اگر ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق نہ ملے تو ہمیں تو بہر حال خدا تعالیٰ نے یہ توفیق دی ہے کہ ہم اس کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہیں ، اپنی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو