خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 294 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 294

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۹۴ خطبہ جمعہ ۹؍ دسمبر ۱۹۷۷ء یہ بشارت دی تھی کہ میں تجھے ایک ایسی جماعت دوں گا جو میری راہ میں ہر قسم کی قربانیاں کرنے والی ہوگی۔یہ الہام اور یہ بشارت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئی تھی ہم ہر آن اسے پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت آگے ہی آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔پس جہاں تک اجتماعی رہائش گاہوں کا سوال ہے (ویسے تو ہر گھر میں مہمان ٹھہرتے ہیں ) قریباً نصف مسقف حصہ جلسہ سالانہ کے مہمان خانوں کے نتیجہ میں ہمیں مل چکا ہے اور مستورات کے لئے رہائش کا مزید انتظام کیا گیا ہے اور مردوں کی جگہ کچھ کم کر دی گئی ہے۔پھر کچھ خیموں کا انتظام کیا گیا ہے۔سردی میں خیمے کی رہائش بہت مشکل ہوتی ہے اور بہت سی ضروریات پوری نہیں ہوتیں لیکن بہر حال آنے والے احمدی کو یہ قربانی دینی پڑے گی۔دنیا تو دنیا کی خاطر بہت لمبا عرصہ خیموں میں رہ جاتی ہے اگر ہم پانچ دس دن خیموں میں رہ جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔شروع شروع میں یہ علاقہ جس کو اب ربوہ کا شہر کہتے ہیں بنجر پڑا ہوا تھا اور اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔پھر یہاں آنے کے بعد جلسہ سالانہ کے لئے عجیب و غریب Huts (ہٹس ) بنائی گئیں کچی دیواروں کی اور ان کے اوپر ایسا پھوس پڑا ہوا تھا کہ ہر وقت یہ خطرہ رہتا تھا کہ اگر خدانخواستہ ذراسی بے احتیاطی ہو گئی تو اس علاقے کی ساری چھتیں جل کر راکھ ہو جائیں گی لیکن اس وقت اس حالت میں بھی خدا تعالیٰ کے فرشتے ہماری حفاظت کرتے رہے اور ہم اپنے رب کریم سے یہ امید رکھتے ہیں کہ اب اس حالت میں بھی وہ ہماری حفاظت کرتے رہیں گے۔ہمارا جلسہ جماعت کی ترقی کی ایک تاریخی علامت بھی ہے۔آپ کو یاد نہیں ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری جلسے میں کتنے آدمی شامل ہوئے تھے۔صرف سات سو مہمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری جلسے میں شریک ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خوشی کا اظہار فرمایا تھا کہ جلسے پر بہت مہمان آگئے ہیں اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ہے۔ہر حرکت شروع میں چھوٹی ہوتی ہے اور اس کا پہلے سے آگے بڑھنا بھی اسی نسبت سے ہوتا ہے مثلاً اگر پچاس کی بجائے سو آدمی آگئے تو دگنے ہو گئے لیکن