خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 292 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 292

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۹۲ خطبہ جمعہ ۹؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کہ اللہ تعالیٰ کمزور اور نا تواں انسان کی کمزوریوں کو اپنی طاقت سے دور کر دے اور جو ذمہ داریاں کندھوں پر ڈالی گئی ہیں ان کو نباہنے کی توفیق عطا کرے۔آپ دوست بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی صحت دے اور صحت سے رکھے اور ہماری جو ذمہ داریاں ہیں خصوصاً جو جلسہ سالانہ کے ایام سے تعلق رکھتی ہیں ان کو ہم خدا تعالیٰ کی مرضی اور اس کے منشا کے مطابق پورا کرنے کے قابل ہو جائیں اور ہماری کوششوں کو وہ قبول کر لے اور ہم سے راضی ہو جائے۔میں نے جو پچھلا خطبہ دیا تھا غالباً دو ہفتے ہوئے اس میں میں نے جلسہ سالانہ کے متعلق ہی کچھ باتیں بتائی تھیں۔کچھ عام اصولی باتیں تھیں اور کچھ تفصیلی اور عملی با تیں تھیں۔آج میں پھر جلسہ سالانہ کے متعلق ہی بعض باتیں کہنا چاہتا ہوں اور بعض باتوں کے متعلق ذرا زیادہ تفصیل۔بتانا چاہتا ہوں۔جس وقت تعلیمی ادارے قومیائے گئے تو وہ جلسہ سالانہ کے لئے میٹر نہ رہے۔قومیائ جانے کے بعد بھی غالباً ایک دو سال جلسہ کو ملتے رہے لیکن جس وقت وہ میٹر نہ رہے تو قریباً اشتی ہزار مربع فٹ کا رقبہ جلسہ کے استعمال سے باہر نکل گیا اور اسی ہزار مربع فٹ بہت بڑا رقبہ ہے۔چنانچہ اس وقت بڑی گھبراہٹ بھی تھی اور بڑی دعا کی تو فیق بھی ملی۔میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ربوہ کو یہ توفیق دی کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کو اپنے سینے میں جگہ دی اور اپنے گھروں کو ان کے لئے کھول دیا۔ہر امتحان بڑی عاجزانہ دعاؤں کا ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اہل ربوہ کو جزا عطا فرمائے۔غرض اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ اتنی ہزار مربع فٹ کے مقابلہ میں کوئی اور رقبہ بننا چاہیے کیونکہ ہماری تعداد میں تو ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔چنانچہ جلسہ سالانہ کے لئے کچھ مہمان خانے تیار کئے گئے جن کو مختلف اضلاع بنوار ہے ہیں۔مالی قربانی تو پہلے ہی وہ جماعتیں دے رہی ہیں اس کے ساتھ یہ ایک زائد مالی قربانی آگئی اس لئے یہ رقوم آہستہ آہستہ ہی وہ اضلاع دیں گے۔فی الحال رقم کا کچھ حصہ بطور قرض ان اضلاع کو دیا گیا ہے یعنی جو مہمان خانے بن رہے تھے ان کی جتنی آمد ہوئی تھی اس ( پر ) لاکھ دولاکھ روپی زائد خرچ کیا گیا اور لاکھوں روپیہ مختلف اضلاع سے اس کام کے لئے جمع بھی کیا تو اسی ہزار مربع فٹ