خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 273
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۷۳ خطبہ جمعہ ۴ رنومبر ۱۹۷۷ء جاتے ہیں بعض کے خزاں میں بعض کے بہار میں اور بعض کے سارا سال جھڑتے رہتے ہیں اور سال کے دوران پرانے پتے جھڑ کر نئے پتے نکل آتے ہیں۔ربوہ میں جو درخت اُگے ہوئے ہیں آپ ان کے پتوں کا بھی شمار نہیں کر سکتے۔گنتی کرنے لگیں تو آپ کو مصیبت پڑ جائے اور جو اس کا ئنات میں درخت اُگے ہوئے ہیں، میں زمین نہیں کہہ رہا اس کا ئنات میں جو درخت اُگے ہوئے ہیں ان کے پتوں کا شمار کیسے ہو سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں وہ عظیم ہستی ہوں کہ کوئی پتا اپنے درخت سے نہیں گرتا جب تک وہ میرے علم میں اور میرے حکم سے نہ ہو۔پس بڑی عظیم ذات ہے خدا تعالیٰ کی جس کے ساتھ اسلام نے ہمارا تعارف کروایا ہے۔اگر ہم اس کی تھوڑی سی معرفت بھی رکھتے ہوں تو ہم ایک لمحہ کے لئے بھی اس بات کو نہ بھولیں کہ وہ ہی وہ ہے، مولا بس، باقی ہر چیز بیچ ہے ہمارے اپنے نفسوں سمیت۔پس اگر ہم نے کچھ حاصل کرنا ہے تو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی اتباع کر کے اور اس کے حکموں کو مان کر جن چیزوں کو وہ کہتا ہے نہ کرو ان کو چھوڑ کر اور جن کو وہ کہتا ہے کروان میں اس کی اطاعت بجالا کر ہم کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الكهف : ١١١) پس جو شخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اور اسی زندگی میں خدا تعالیٰ کا وصال اسے حاصل ہو جائے تو وہ ایسے اعمال بجالائے جن میں فساد کا کوئی شائبہ نہ ہو، فساد کی کوئی ملونی ان کے اندر نہ ہو ( یہ عَمَلًا صَالِحًا کے معنے ہیں ) اور اس کے اعمال میں شرک کا کوئی حصہ نہ ہو۔شرک صرف موٹا موٹا شرک ہی تو نہیں بلکہ انسان کے صحن سینہ میں ہزار بت بعض دفعہ جمع ہو جاتے ہیں۔اپنے نفس کو ان بتوں سے بچانا اور اپنے سینہ کو ان بتوں سے پاک کرنا اور اپنے خیالات کو شرک سے پاک رکھنا، اپنے اعمال کو شرک سے پاک کرنا ، اپنے ماحول کو شرک سے پاک کرنا، اپنی دنیا کو شرک سے پاک کرنا اور ہر لحاظ سے لا يُشْرِكُ پر عمل کرنا ضروری ہے اور اگر ایسا ہو تو پھر اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی لقا انسان کو حاصل ہو جاتی ہے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔اگر چہ ہمارے بچوں کی عمریں چھوٹی ہیں ، اطفال بھی اجتماع کے لئے آئے ہوئے ہیں اور