خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 272 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 272

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۷۲ خطبہ جمعہ ۴ رنومبر ۱۹۷۷ء زیادہ سے زیادہ ذکر کریں اور زیادہ سے زیادہ اس کے حضور عاجزی اور تضرع کے ساتھ جھکیں اور اس کی رحمتوں کے حصول کی کوشش کریں۔بعض ظاہری چیزیں اس اجتماع میں نہیں ہوں گی صرف اس اجتماع کے لئے یہ ہدایت ہے۔ایک تو جھنڈے کا معاملہ ہے ویسے بھی یہ قانو نا مشتبہ تھا کہ جھنڈا لہرایا جائے یا نہ لہرایا جائے تو میں نے یہ ہدایت دی ہے کہ جھنڈا نہ لہراؤ اجتماع پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔پھر خدام کا اپنی عمر کے لحاظ سے یہ جسمانی طاقت کا زمانہ اور جوش کا زمانہ ہوتا ہے اور وہ اس میں نعرے بھی خوب لگاتے ہیں لیکن میں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ اس اجتماع میں کوئی نعرہ نہیں لگایا جائے گا بلکہ خاموشی کے ساتھ تقاریر سنیں اور ذکر الہی کرتے رہیں۔تقریر سنتے ہوئے ذکر الہی کرنا مشکل نہیں، غیر ممکن نہیں بلکہ ممکن ہے اور آسان ہے کیونکہ جب آپ کے کان نیکی کی باتیں اور اسلام کی تعلیم کے مختلف حصوں کی تشریح اور تفسیر ٹن رہے ہوں گے اگر اس وقت آپ کی زبان سُبْحَانَ اللهِ ، اَلْحَمدُ لِله اور اللہ اکبر کا ورد کرتی رہے یا ہمارے محبوب رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتی رہے تو اس سے آپ کے سماع پر، تقریر کے سننے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔تھوڑی سی عادت ڈالنی پڑے گی۔بہتوں کو عادت ہوتی ہے چنانچہ ایسے لوگ بھی میں نے دیکھے ہیں اور میرے علم میں ہیں کہ جو ہر وقت ہی ذکر الہی میں مشغول رہتے ہیں۔چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے ذکر الہی کرتے رہتے ہیں۔سوتے ہوئے اس لئے کہ وہ آخری لمحہ جو بیداری اور نیند کے درمیان کا ہوتا ہے اگر اس وقت تک کوئی خدا تعالیٰ کا ذکر کرے تو اس کے نیند کے لمحات بھی اسی ذکر میں شمار ہو جاتے ہیں کیونکہ جو اس نے چھوڑا وہ نیت سے نہیں چھوڑا بلکہ مجبوراً چھوڑا جب اسے نیند آ گئی تو اس کی زبان ذکرِ الہی سے خاموش ہو گئی لیکن اس کی روح کی آواز تو ذکر الہی کر رہی ہے۔اس کے جسم اور روح نے مل کر جو کام شروع کیا تھا اس کی روح نے اسے جاری رکھا ہے اور اس کی روح کی آواز بہر حال ذکر الہی کر رہی ہے۔دو ہدایتیں دینے کے بعد میں پھر پہلے مضمون کو دہراتا ہوں۔اللہ تعالیٰ بڑی عظیم ہستی ہے اور وہ متصرف بالا رادہ ہے۔اتنی بڑی کائنات ہے اس کا ایک چھوٹا سا حصہ لے لیں مثلاً درخت ہیں۔درختوں کے پتے جھڑتے ہیں بعض درختوں کے تو سال میں ایک دفعہ ایک وقت میں جھڑ