خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 274
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۷۴ خطبہ جمعہ ۴ رنومبر ۱۹۷۷ء وہ تو زیادہ گہرائیوں میں پہنچ بھی نہیں سکتے لیکن جہاں تک اور جس گہرائی تک ان کا ذہن نہیں پہنچ سکتا ان حقائق کو ان کی زبان تو ادا کر سکتی ہے۔قرآن کریم نے جو تعلیم ہمیں دی ہے اور اس کی جو تفسیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اس میں تو ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جس وقت زندگی اس دنیوی شکل میں شروع ہوتی ہے یعنی پیدائش کے وقت ، اس وقت سے ہی خدا تعالیٰ کا نام بچے کے کان میں پڑنا چاہیے۔بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہ ایک بلا وجہ رسم ہے جس کا کوئی اثر نہیں لیکن اب پچھلے چند سال کے اندر یہ تحقیق ہوئی ہے کہ بچے کے کان میں پیدائش کے پہلے دن ، اپنی عمر سنیلیٹی ) کے پہلے دن جو آواز میں پڑتی ہیں وہ اس کی طبیعت پر اور اس کی Personality ( پر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے اور احادیث نے جو عظیم علم ہمیں عطا کئے تھے ان کی تائید خود انسان بھی اپنی تحقیق کے ذریعے کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ تحقیق کی ہے۔ٹھیک ہے تم نے بھی تحقیق کی ہے لیکن ہمیں تو بتانے والے نے یعنی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج سے بہت پہلے یہ باتیں بتادی تھیں۔یہ درست ہے کہ اطفال کا دماغ ان گہرائیوں میں نہیں جا سکتا جس کو ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت کہتے ہیں۔آٹھ سال نو سال، دس سال کے بچے بھی ہیں لیکن آٹھ ، نو ، دس سال کا بچہ زبان سے خدا تعالیٰ کا ذکر تو کر سکتا ہے۔وہ سُبْحَانَ اللهِ تو کہہ سکتا۔سکتا ہے، وہ لا إله إلا الله تو کہہ سکتا ہے۔میرا ایک پوتا ہے لقمان سلمہ اللہ تعالیٰ کا بچہ وہ پونے دو سال کا ہے ہم اس کو سکھاتے رہتے ہیں اور وہ حَسْبِيَ رَبِّي جَلَّ اللهُ اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کہنے لگ گیا ہے اور اس کی عمر پونے دو سال ہے۔یہ درست ہے کہ اس کو نہیں پتہ کہ میں کیا کہہ رہا ہوں لیکن آج نہیں پتہ کل اس کو پتہ لگ جائے گا اور وہ سوچے گا کہ مجھ پر کتنا احسان کیا تھا احسان کرنے والے نے کہ ابھی مجھے سمجھے بھی نہیں تھی اور اس رستے کی نشاندہی کر دی تھی جس رستے پر چل کر انسان خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل کرتا ہے۔اسی واسطے ہم کہتے ہیں کہ جن علاقوں میں یا جن گھرانوں میں بے احتیاطی سے بچوں کو گالیاں دینے کی عادت پڑ جاتی ہے ان کو گالیوں سے منع کریں۔بچہ بعض دفعہ ایک گندی سی گالی دے دیتا ہے اور اس کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ اس کے معنے کیا ہیں لیکن صرف اس وجہ سے تو ماں باپ کی براءت نہیں ہو جاتی کہ بچے نے گندی گالی دی مگر اس کو