خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 216
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۱۶ خطبہ جمعہ کے را کتوبر۱۹۷۷ ء پس اللہ اسم ذات ہے اور اللہ ان تمام صفات حسنہ کا موصوف ہے جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں۔جب ہم اللہ کہتے ہیں تو ہمارے یعنی قرآن کریم پڑھنے والوں کے ذہن میں وہ تمام صفات آجاتی ہیں جو اس کے لئے بطور وصف کے ہیں۔دوسری بات یہ ہے اور یہ ایک انتہائی بنیادی بات ہے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اور میرے کسی خطبہ میں بھی اس کا ذکر آیا تھا کہ ایمان کے جتنے اصول ہیں ان کا بنیادی اصل یہی ہے کہ لا الهَ إِلَّا اللهُ اللہ ایک ہے۔کلمہ طیبہ میں یہی اعلان ہے کہ اللہ ایک ہے اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی۔اس وقت میں اللہ کی ذات کی بات کروں گا۔اللہ کی صفات کے بارہ میں انشاء اللہ اگلے کسی خطبہ میں بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔کوئی ذات اس کی ذات جیسی نہیں ہے۔شرکت چار قسم کی ہوسکتی ہے لیکن سورۃ اخلاص میں ان چاروں قسم کی شرکت کی نفی کی گئی ہے یعنی کسی کا کسی کی ذات میں شریک ہونے کا انحصار چار باتوں پر ہے اور سورۃ اخلاص میں ہر بات کی نفی کی گئی ہے۔اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔اللہ ایک ہے۔دو یا تین یا چار یا پچاس یا سو یا ہزا ر الہ نہیں۔بت پرستوں نے اللہ کے بے شمار شریک بنالئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت خانہ کعبہ میں کفار نے بہت سے بت بٹھا رکھے تھے۔غرض ایک تو یہ بت پرست ہیں جنہوں نے اللہ کو ایک نہیں سمجھا اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے تین خدا بنالئے اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایک کو بھی نہیں مانا لیکن اسلام کہتا ہے اللہ ہے اور وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔عدد کے لحاظ سے وہ ایک ہے اور مرتبہ کے لحاظ سے اللہ کا کوئی ہم پلہ اور ہم مرتبہ نہیں ہے۔واجب الوجوب ہونے میں ایسی چیز یا کوئی ایسا انسان یا جاندار یا فرشتہ یا جن یا جو مرضی کہ لو غرض کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو واجب الوجوب ہو یعنی جس کا ہونا ضروری ہو۔اللہ کے سوا ہر چیز اپنی ذات کے لحاظ سے ہلاک ہونے والی ہے اور كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَإِنِ (الرحمن: ۲۷) کے اعلان کے نیچے آتی ہے۔پس مرتبہ وجوب میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور اسی کے اندر آتا ہے محتاج الیہ ہونا