خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 217 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 217

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۱۷ خطبہ جمعہ کے را کتوبر۱۹۷۷ ء اور اس میں بھی خدا تعالیٰ کا جو بے نیاز ہے کوئی شریک نہیں ہے یعنی خدا تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز کسی غیر کی احتیاج رکھتی ہے۔صرف خدا تعالیٰ ایک ایسی ہستی ہے جس کو کسی چیز کی احتیاج نہیں اور ہر چیز خدا تعالیٰ کی احتیاج رکھتی ہے مگر خدا تعالیٰ مرتبہ وجوب میں اکیلا ہے اور اکیلا ہی اس خصوصیت کا حامل ہے اور اس میں منفرد اور یگانہ ہے۔وہ صمد اور غنی ہے اسے کسی کی احتیاج نہیں ، ہر دوسرے کو اس کی احتیاج ہے۔تیسرا شریک خاندانی ہوا کرتا ہے۔خاندان کے مختلف افراد ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں۔پس رشتے کے لحاظ سے اور حسب نسب کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔فرما یا کم يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ (الاخلاص :(۴) نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ اس کا آگے کوئی بیٹا ہے وہ واجب الوجوب ہے وہ ازلی ہے وہ ابدی ہے اور اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں۔باپ ہونا بھی احتیاج بتا تا ہے اور بیٹا پیدا کرنا بھی احتیاج ثابت کرتا ہے۔چوتھے یہ کہ وہ اپنے کام کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے اس کے فعل میں کوئی اس کی برابری نہیں کر سکتا۔باعتبار فعل بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔وہ ایک ہے، احد ہے، مرتبہ وجوب میں اور اس لحاظ سے کہ کسی کی اسے احتیاج نہیں اور ہر دوسرے کو اس کی احتیاج ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور نسبت کے لحاظ سے بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اپنے فعل کے لحاظ سے بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔جب ہم صفات باری کے بارے میں بات کریں گے تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ جن صفات میں بظاہر انسان کی بعض صفات یا اس کے افعال کی خدا تعالیٰ کے افعال کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے وہ بھی حقیقی مشابہت نہیں ہے۔ہر دو میں بنیادی فرق ہے لیکن وہ تو بعد کی بات ہے، اس وقت تو میں یہ بتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق اسلامی تعلیم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا ایک ہے، کسی جہت اور کسی طور پر کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔پھر اسلام ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو تمام تعریفوں کی مستحق ہے فرمایا