خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 182 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 182

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۸۲ خطبہ جمعہ ۹؍ستمبر ۱۹۷۷ء شھر رمضان کا ہر دن ہی برکتوں والا دن ہے۔رحمتوں والا دن ہے لیکن رمضان میں جو جمعے آتے ہیں وہ خاص طور پر زیادہ برکتیں اور رحمتیں لے کر آتے ہیں کیونکہ جمعہ کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ اس دن بھی انسان کے لئے ایک گھڑی ایسی آتی ہے ایک ساعت ایسی آتی ہے کہ جب دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔ہم اس کے یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب خدا کا ایک بندہ خدا کے حضور عاجزی اور ابتہال کے ساتھ دعا کرتا اور دعا کو انتہا تک پہنچا تا ہے تو اس کی تضرع کی انتہا وہ وقت ہے جو اس شخص کے لئے قبولیت دعا کا وقت بن جاتا ہے۔رمضان کے مہینے کے متعلق یہ بھی آتا ہے کہ ان دنوں میں شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے اور باندھ دیا جاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ماہ رمضان میں ہماری زندگی کے لمحات کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا جاتا ہے۔رمضان کی ایک عبادت روزہ ہے پھر نوافل ہیں۔عام آدمیوں کے لئے رمضان میں رات کے پہلے وقت میں تراویح کا انتظام ہوتا ہے۔تہجد کا اصل وقت تو رات کا پچھلا پہر ہے لیکن ہر شخص کے لئے نہ یہ مکن ہے اور نہ ہر شخص اتنا تربیت یافتہ ہوتا ہے کہ وہ پچھلے پہر خدا کے حضور نوافل ادا کرنے کے لئے جاگے اور اس وقت میں کہ جو صفائی کا وقت ہے جب دماغ بھی صاف ہوتا ہے اور روح سے بھی بہت سی کدورتیں غائب ہو جاتی ہیں وہ عبادت کرے اس لئے دور خلافت اولی میں یہ تراویح رائج ہوئیں۔اصل میں تو یہ عبادت انفرادی ہے۔بہر حال یہ ایک عبادت ہے جو رمضان میں ادا کی جاتی ہے۔بقیہ گیارہ مہینے میں تو تراویح کا انتظام نہیں ہوتا۔پھر کہا گیا ہے کہ اپنے بھائیوں کا خیال رکھو ان کے لئے اپنے اموال خرچ کرو۔انسان ان کے لئے زیادہ دعائیں کرتا ہے۔نیز تسبیح و تحمید کے لئے اسے زیادہ وقت ملتا ہے۔غرض رمضان میں بہت سی عبادتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور ہمارے وقت کو ان عبادات نے اس طرح گھیرا ہوا ہوتا ہے کہ شیطان کے لئے اس وقت کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں رہتا۔رمضان میں شیطان کو زنجیر ڈالی جاتی ہے لیکن اصل میں جو زنجیر ڈالی جاتی ہے اس کا ذکر ان آیات میں آیا ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہیں۔ان میں سے بعض آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ کیا چیز شیطان کو باندھتی ہے۔یہ جو رمضان کا آخری جمعہ ہے اس کے متعلق کچھ غلط تصورات بھی پائے جاتے ہیں اور