خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 45

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۵ خطبہ جمعہ ۱۱ / مارچ ۱۹۷۷ء بت پرست عرب مسلمان ہو گیا اور اس انقلاب نے وحشی اور درندہ صفت لوگوں کو انسان بنادیا۔صرف انسان ہی نہیں باخدا اور خدا ترس انسان بنادیا۔لوگوں کی بھلائی کے لئے ایک قوم پیدا کر دی۔یہ کس بات کا نتیجہ تھا؟ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شبینہ دعا ئیں تھیں جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر آپ دنیا کے لئے کیا کرتے تھے۔چنانچہ آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اُمتِ مسلمہ میں کئی بزرگ پیدا ہوئے جنہوں نے دعاؤں کے ذریعہ نوع انسانی کی خیر خواہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کی اور خدا تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو قبول کر کے غیر مسلموں کو اسلام کی آیات کے سمجھنے کی توفیق دی اور اس طرح اسلام صدیوں تک ملک ملک، علاقہ علاقہ میں پھیلتا رہا اور آج وہ زمانہ ہم تک پہنچ گیا اور آج تو ساری دنیا میں اسلام کو پھیلانے کا وقت ہے۔یہ زمانہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا اور آپ نے اُمت محمدیہ کو بشارتیں دیں ، غلبہ اسلام کا زمانہ ہے۔اس لئے جو احمدی اولاد ہے، احمدیوں کی جو نفری ، تعداد اور طاقت ہے اور ان کو جو دولت دی گئی ہے اس کا صرف ایک مصرف ہونا چاہیے کہ خدا کی خشیت رکھتے اور آیات کو دیکھتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک اور فخر اور تکبر سے بچتے ہوئے محض مؤحد بن کر ، خالص موحد بن کر خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ اپنی ہر چیز قربان کرنے لئے ہر وقت تیار رہیں۔یہ زمانہ صرف مال کی قربانی ہی نہیں مانگتا اوقات کی قربانی بھی مانگتا ہے، توجہ کی قربانی بھی مانگتا ہے۔زمانہ یہ چاہتا ہے کہ انسان بجائے اس کے کہ ناولیں پڑھے وہ قرآن کریم پڑھے اور اس پر تدبر کرے۔زمانہ یہ قربانی مانگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی جو تفسیر کی ہے انسان اس کو زیر مطالعہ رکھے۔یہ عجیب علمی دولت ہے اور ایک ایسا خزانہ ہے جس کی دنیوی مال و دولت قیمت ادا نہیں کر سکتے۔اس کی طرف ہر احمدی کو پوری توجہ دینی چاہیے۔دوست نظام جماعت کے ماتحت چندے دیتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہی تو سب کچھ نہیں۔اس میں بھی خدا تعالیٰ نے بڑی برکت ڈالی ہے اور احمدی کے دل کو بڑی وسعت عطا کی ہے۔خدا کے فضل سے ہر سال پچھلے سال کی نسبت قدم آگے کی طرف بڑھا ہوا ہے۔مالی قربانیوں میں تیزی ہے، پھیلاؤ ہے اور وسعت ہے کہ انسان حیران اور اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔