خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 44
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۴ خطبہ جمعہ ۱۱ / مارچ ۱۹۷۷ء تھے جو پانچ پانچ روپے ماہوار گزارہ لینے والے تھے مگر آج ان کی اولاد ہزاروں روپے کما رہی ہے۔ایک بزرگ کے متعلق تو مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ ان کے چار پانچ بچے تھے جو اپنے وقت میں دس دس ہزار روپے مہینہ کما رہے تھے لیکن یہ کثرت اولاد یا کثرتِ مال و دولت ہم پر ایک ذمہ داری ڈالتی ہے اور وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں۔ہم اپنے اموال کو بھی خدا کی رضا اور خوشنودی کے لئے خرچ کرنے والے ہوں اور اپنی اولادوں کی بھی اس طرح تربیت کرنے والے ہوں کہ وہ بنی نوع انسان کے لئے خیر و برکت کے سامان پیدا کرنے والی ہوں۔دنیا کے لئے سکھ اور خوشحالی کے سامان پیدا کرنے والی ہوں۔کسی کو دیکھ نہ پہنچانے والی ہوں۔ان کے دل میں ہر وقت خَشْيَةُ اللہ رہے۔اب ہماری زندگیوں میں جو پچھلے چند دن گزرے ہیں ان میں بعض دیہاتی دوست ملنے آتے تھے۔مجھ سے باتیں کرتے تھے اور خوش تھے اس بات پر کہ وہ ہر روز خدا کے نشان دیکھتے ہیں۔اس تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔وقت کی بھی تنگی ہے اور بعض تفاصیل بتانی بھی مناسب نہیں ہوتیں۔سب سمجھتے ہیں۔غرض یہ آیات یہ نشان اور اپنے رب کے پیار کی یہ علامتیں دیکھنے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔انہیں سمجھنا چاہیے ان سے اثر قبول کرنا چاہیے اور کثرت سے خدا کی تسبیح وتحمید کرنی چاہیے۔دوستوں کو اپنے اموال خدا کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کے لئے زیادہ بشاشت کے ساتھ خرچ کرنے چاہئیں اور اپنی اولادوں کی تربیت اس طرح کرنی چاہیے کہ احمدیوں کے گھروں میں ایسی نسل پیدا ہو جو خدا کے ہر بندہ کی خواہ اس کا مذہب اور عقیدہ کچھ ہی ہو یا کہیں کا رہنے والا ہو ر نگ اور نسل کے امتیاز کے بغیر بنی نوع انسان کی خیر خواہی کرنے والی ہوتا کہ دنیا میں انقلاب عظیم بپا ہو جائے۔انقلاب مختلف شکلوں میں رونما ہوتے ہیں۔بعض دفعہ نوع انسانی کی زندگی میں خونی انقلاب آتے رہے ہیں اور بعض انقلاب محبت کی فراوانی کے انقلاب آتے رہے ہیں جیسا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک انقلاب عظیم بپا ہوا اور وہ انقلاب عظیم بپا ہوا تھا نوع انسانی کی خیر خواہی کا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ جو دنیا نے انقلاب عظیم دیکھا کہ سارا