خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 480

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۸۰ خطبه جمعه ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۷۸ء مومن وہ ہے جو اللہ کی معرفت حاصل کرے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارفع مقام کو پہچانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کی راہ پر چلتے ہوئے اس مقام تک پہنچ جائے کہ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا اس کے دل میں کوئی شک اور شبہ باقی نہ رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے تفصیل سے بتایا ہے شیطان کے سارے حربے اور ہر سہ قسم کے وسوسے ناکام ہوں یعنی انسان کا خدا اور اس کے رسول پر جو ایمان ہوتا ہے جس کا وہ زبان سے اقرار کرتا ہے دل میں اس کے بارہ میں یقین ہوتا ہے اور عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ جو بات اس کے دل میں ہے وہ سچی ہے، اس میں کمزوری پیدا کرنے کے لئے شیطان حملے کرتا ہے وہ حملے ناکام ہو جائیں اور پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ کے مزید فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے علی وجہ البصیرت خدا تعالیٰ کے حضور ہر چیز پیش کر دی جائے۔پھر وَ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللہ کی رُو سے انسان یہ عہد کرتا ہے کہ اے خدا! ہر چیز تیری ہے جسے ہم تیرے حضور پیش کر دیں گے۔پھر وہ کبھی کروڑ میں سے ایک پیسہ مانگ لیتا ہے اور کہتا ہے باقی تم اپنے پاس رکھ لو اور کبھی وہ پانچ ہزار میں سے پانچ ہزار لے جاتا ہے۔ایک شخص کا ایک ہی مکان ہے اسے جلا دیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ - رَضِيْتُ بِاللهِ رَبِّ۔مکان جل جانے کی وجہ سے اپنے رب کو تو نہیں چھوڑتا۔ایسے موقع پر مومن کہتے ہیں ہم اپنے رب پر راضی ہیں۔پھر فرما يا أوليكَ هُمُ الصّدِقُونَ جو لوگ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں صادق ہوتے ہیں ان کی علامت یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی ہوتے ہیں۔پھر اس شبہ کا ازالہ کیا کہ محض ظاہری اعمال کافی نہیں۔قُلْ اَتُعَلِمُونَ اللهَ بدِينِكُم خدا کو میں نے اپنے دین کے معاملہ میں کچھ نہیں بتا نا وہ تو عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے بتانا ہے کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے۔قُلْ اتَّعَلَّمُونَ اللهَ بدِینکم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں اپنے متعلق بھی نہیں بتا سکتا کیونکہ خدا مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔اس کے علم کا کوئی اندازہ ہی نہیں۔میرے علم کو اس سے کوئی نسبت ہی نہیں۔وہ علام الغیوب ہے۔آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اس کو جاننے والا ہے اور ہر چیز