خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 479 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 479

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۷۹ خطبه جمعه ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۷۸ء پھر میں یہ بھی ایمان رکھتا ہوں اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام رسولوں سے افضل اور ارفع ہیں۔ہر ایک رسول جو آپ سے پہلے گزرا اس پر بھی احسان کرنے والے ہیں۔انہوں نے بھی جو کچھ پایا وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے پایا تھا خدا اور ان کے درمیان کوئی اور وسیلہ یا شفیع نہیں بنا تھا یا اپنی قوت قدسیہ سے برکتیں دینے والا کوئی نہیں تھا سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے۔آپ عظیم انسان ہیں۔آپ انسان کامل ہیں۔آپ دنیا کے محسن اعظم ہیں۔آپ اتنا حسن رکھنے والے ہیں اپنے اعمال میں، اپنی زندگی میں، اپنے رہن سہن میں، اپنے معاشرہ میں کہ کسی ماں نے ویسا بچہ جنا اور نہ جن سکتی ہے یہ میرا ایمان ہے اور میں اس کا برملا اظہار کرتا ہوں باقی دنیا جو مجھتی ہے اس کے متعلق کہتی رہے مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اگر کوئی صاحب میرے خرچ پر میرے پاس تحقیق کرنے کے لئے آئیں اور ایک سال تک رہیں اور سال بھر مجھے فحش گالیاں دیتے رہیں تب بھی میں مسکراتا رہوں گا اور مجھے کوئی پروانہیں ہوگی۔لوگ گالیاں دیتے ہیں تو دیتے رہیں جس چیز کی مجھے فکر ہے وہ یہ ہے کہ میرا خدا مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور پھر فرماتے ہیں : میں اس یقین پر قائم ہوں کہ اگر میں ذرہ بھر بھی اپنے خدا کا انکار کروں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام میں نے پہچانا ہے اور جس کی معرفت اور عرفان حاصل کیا ہے اس کا انکار کروں تو میرا رب ناراض ہو جائے گا۔پس اگر آپ کے دل کی بھی یہی کیفیت ہے تو آپ کس سے ڈرتے ہیں آپ اپنے ایمان کا برملا اظہار کریں۔دنیا کو ہم کچھ نہیں کہتے۔ساری عیسائی دنیا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی رہی ہے ایسا تو دنیا میں ہوتا چلا آیا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں اسلام نے ساری دنیا پر غالب آنا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس منصوبہ کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے مہدی کو پیدا کر دیا اور ہمیں اس پر ایمان لانے کی توفیق عطا کی۔یہ ایک حقیقت ہے ہم اس حقیقت سے فرار کیسے اختیار کر لیں۔پس یہ جو آیات میں نے اس وقت پڑھی ہیں ان میں اس مضمون کا تسلسل ہے اور یہ ایک بڑا لطیف مضمون ہے جو بیان ہوا ہے۔ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ مومن کون ہوتا ہے؟ فرمایا