خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 457
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۵۷ خطبه جمعه ۱/۱۳ کتوبر ۱۹۷۸ء ہزار میں سے شاید ایک آدمی ہو جس کو یہ احساس پیدا ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ کام تو شروع ہو گیا۔یہ خدا تعالیٰ نے ایک تدبیر کی ہے اب وہ اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔وہ لوگ اپنے سے نالاں ہیں۔ہر روز ایک حصہ اٹھتا ہے اور اپنی برائیاں بیان کر دیتا ہے۔ایک دن ہمارے سامنے کھانے کے بارہ میں پروگرام آگیا کہ آدمی بیمار ہورہے ہیں اور مر رہے ہیں۔اس نے بتایا کہ ہمیں غلط قسم کا کھانا دیا جا رہا ہے جو زہریلا ہے اور اس کی وجہ سے اتنے عرصہ میں بارہ ہزار آدمی مر چکا ہے اور پتا نہیں کتنا بیمار ہوا ہے ہمیں اس سلسلہ میں فکر کرنی چاہیے۔میں ان کو بتا تارہا ہوں اور یہ پوائنٹ بھی ان کے سامنے لایا ہوں کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ قرآن کریم نے کھانے کے متعلق جو تعلیم دی ہے وہ اس پر عمل نہیں کر رہے اگر وہ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کریں تو کھانے کی وجہ سے اس قسم کی بیماریاں اور اموات نہ ہوں۔باقی جو انسان اس دنیا میں آیا ہے اس نے بہر حال اس دنیا سے جانا ہے یہ تو نہیں ہے کہ قیامت تک سب نے زندہ رہنا ہے لیکن تکلیفیں اٹھا کر اور بیماریوں سے اپنی زندگی کے دن گزار کر مرنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان قرآن کریم کی تعلیم پر عمل نہیں کرتا۔پھر ان قوموں میں دوسرے جھگڑے لڑائیاں اور Strikes ( سٹرائیکس ) وغیرہ بہت ہیں۔میں ان کو کہتا رہا ہوں کہ عجیب بات ہے کہ مزدور اپنے حقوق کے حصول کے لئے سٹرائیک کرتا ہے لیکن اس مزدور کو یہ پتا نہیں کہ اس کے حقوق ہیں کیا جن کو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔یہ ہمیں اسلام بتا تا ہے۔اس طرح بات چھڑتی ہے۔پھر ان کو بتاتے ہیں پھر وہ کہتے ہیں کہ اچھا! یہ حقوق ہیں۔میں نے امریکہ میں ایک جگہ ان کو کہہ دیا کہ دیکھو تم میں سے کوئی شخص یہ جرات نہیں کرے گا کہ وہ یہ کہے کہ اسلام کی یہ تعلیم غلط ہے اور ہمارا دماغ اسے قبول نہیں کرتا۔میں نے پہلے ان کو کہ دیا اور پھر میں نے کہا کہ اب میں تعلیم بتا تا ہوں اور سب نے اسلامی تعلیم کی عظمت کو تسلیم کیا۔پس ان لوگوں کے دل میں ایک احساس پیدا ہوا ہے اور میرے دل میں اس کے ردعمل کے طور پر یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ بڑی اہم ذمہ داری ہے جو ہم پر ڈالی گئی ہے، بڑے کٹھن مراحل ہیں جن میں سے ہمیں گزرنا ہے۔پس تم آرام طلب زندگیاں نہ گزارو۔ساری دنیا کی ہدایت کی