خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 458 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 458

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۵۸ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء ذمہ داری جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے اس کے لئے جو کچھ کر سکتے ہو وہ کر و۔سارا کچھ نہیں کر سکتے ، یہ میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں لیکن جو کچھ کر سکتے ہو وہ تو کرو۔خدا نے یہ کہا ہے کہ جو کچھ کر سکتے ہو وہ کرو اور اگر وہ اس چیز کا ایک کروڑ واں حصہ ہوا جو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے کے لئے ہونا چاہیے تو باقی سارا کچھ میں کروں گا اور اس سارے کا ثواب تمہیں دے دوں گا۔خدا تعالیٰ نے اپنے لئے تو کوئی ثواب نہیں مقرر کیا ہوا وہ تو قادر مطلق اور خالق کل ہے ہر چیز اس کی ملکیت ہے اس نے کسی سے کیا لینا ہے وہ تو بڑی عظمت اور جلال والا ہے کرے گا وہ اور ثواب آپ کو دے دے گا اور یہ گھاٹے کا سودا تو نہیں ہے۔غرض میرے دل میں یہ ردعمل پیدا ہوتا ہے اور اپنی کمزور یوں اور کوتاہیوں کو دیکھ کر بڑی گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ساری جماعت کو کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر ساری دنیا کے لئے دعائیں کرو۔یہ لمبا مضمون ہے۔میں انشاء اللہ اگلے خطبہ میں یا اس سے اگلے کسی خطبہ میں جب موقع ملا اسے بیان کروں گا لیکن اس وقت مختصراً یہ کہوں گا کہ ساری دنیا کے لئے دعائیں کرو، ہر ملک کے لئے دعائیں کرو اور اپنے ملک کے لئے خصوصیت سے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کے استحکام کے سامان پیدا کرے اور یہاں کے لوگ آپس میں اخوت اور بھائی چارے کے ماحول میں زندگی گزارنے والے ہوں اور جوحسین معاشرہ اسلام دنیا میں پیدا کرنا چاہتا ہے جہاں وہ یورپ میں دوسرے ممالک میں پیدا ہو گا وہاں ہمارے ملک میں بھی پیدا ہو۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔( روزنامه الفضل ربوه جلسه سالا نہ نمبر ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۸ ء صفحہ ۷ تا ۱۴)