خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 456 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 456

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۵۶ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء پیچھے جا کر قریباً سات سال تک دکھ پہنچائے۔متواتر ہیں سال تک انتہائی قسم کے مظالم ان کے خلاف کئے گئے۔He had to face the worst type of persecution اور قریباً بیس سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا کہ آپ مگنے کی فصیلوں پر کھڑے تھے اور اہل مکہ جو ہیں سال تک مظالم ڈھاتے رہے تھے ان میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ میان سے اپنی تلواریں باہر نکال سکتے اور اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے اتنی طاقت دی ہوئی تھی کہ آپ جو چاہتے ان سے سلوک کر لیتے لیکن آپ نے جو سلوک ان سے کیا وہ یہ تھا کہ جاؤ تم سب کو معاف کیا میں یہ بتا رہا ہوں کہ اس طرح ہم اسلام کی خوبیاں ان لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں۔چنانچہ میں نے دو چار اور باتیں ان کو بتا ئیں اور اس کے بعد پھر وہ سوال پوچھنے لگ گئے۔سٹاک ہالم میں ایک صحافیہ پر یس کا نفرنس میں ذرا دیر سے آئی اور بیٹھتے ہی کہنے لگی کہ اسلام عورتوں کے متعلق کیا کہتا ہے۔یورپ میں اسلام کے متعلق بڑا ز ہر پھیلایا ہوا ہے کہ اسلام عورت کو عزت اور احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھتا، اس کے حقوق کو نہیں پہچانتا اور اس کے حقوق اسے نہیں دیتا وغیرہ یہ تو اسلام کے دشمنوں کا کام ہے وہ انہوں نے کیا۔میں نے اسے کہا کہ چودہ سوسال پہلے قرآن کریم میں ان الفاظ میں اعلان کیا گیا ہے کہ عورت ہو یا مرد جو بھی اعمالِ صالحہ بجالائے گا اس کو ایک جیسا ثواب ملے گا۔کہنے لگی مجھے تو قرآن کریم کی آیت دکھا ئیں۔ہوٹل میں ہمارے کمرے کے پاس ہی پر یس کا نفرنس ہو رہی تھی۔میں نے اپنے بیڈ روم سے قرآن کریم منگوایا اور اس کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور اس کا ترجمہ سنایا۔کہنے لگی کہ مجھے اس کا ریفرنس نوٹ کروائیں کہ کس شورت کی کون سی آیت ہے۔چنانچہ وہ اس نے نوٹ کیا۔پھر میں نے ایک اور آیت اس کو بتائی اسے بھی نوٹ کیا۔پھر وہ سوال کرتی رہی اور میں بتا تا رہا کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے۔وہ جذباتی ہو رہی تھی لیکن میرے سامنے زیادہ نہیں ہوئی۔جب ہم وہاں سے اٹھے اور وہ کمرے سے باہر نکلی تو وہ آنسوؤں سے رو رہی تھی اور ہمارے ایک ساتھی کو کہنے لگی کہ مجھے یہ بتاؤ کہ اتنی حسین تعلیم تمہارے پاس ہے اور تم اتنی دیر کے بعد ہمارے پاس کیوں پہنچے ہو تمہیں پہلے آنا چاہیے تھا۔