خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 455
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۵۵ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء سمجھانے میں کامیاب نہ ہو جائیں کہ اسلام جو چیز پیش کر رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو ان کے پاس ہے اس وقت تک وہ ہماری طرف توجہ ہی نہیں کریں گے وہ پاگل تو نہیں ہیں۔ہم یہ سمجھتے ہیں ( ہمیں تو اپنے آپ سے ہی غرض ہے اس لئے آپ اپنی باتیں کیا کریں اوروں کی باتیں کرنا چھوڑ دیں) کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی جو تفسیر انسان کے ہاتھ میں دی ہے اسے چھوڑ کر ترقی یافتہ یورپ کو یہ سمجھایا ہی نہیں جاسکتا کہ جو کچھ ان کے سامنے پیش کیا جارہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو ان کے پاس موجود ہے۔اس بات کے لئے ان پر تنقید بھی کرنی پڑتی ہے۔مثلاً فرینکفرٹ میں بڑی دلچسپ اور بہت لمبی ڈھائی تین گھنٹے کی پر یس کا نفرنس ہوئی تھی۔پہلے تو میں نے ان کو کہا کہ کوئی سوال کر ولیکن وہ سب چپ ہو گئے پھر میں نے کہا کہ اچھا پہلے میں باتیں کرتا ہوں اور بعد میں تم سوال کرنا۔میں نے انہیں کہا کہ یہ Modern Civilization ماڈرن سویلائزیشن ) جس پر تمہیں فخر ہے اور دنیا کے دوسرے خطوں میں بسنے والے بہت سے لوگ جو تمہارے ساتھ تعلق نہیں رکھتے تمہاری نقل کرنے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں This Great Modern Civilization میں مجھے بہت سی بنیادی کمزوریاں نظر آتی ہیں ان میں سے تین چار کمزوریاں میں نے ان کو بتا ئیں۔ایک کمزوری میں نے یہ بتائی کہ یہ سویلائز یشن ، تمہاری یہ تہذیب حاضر معاف کرنا نہیں جانتی۔میں جرمنی میں بول رہا تھا انہوں نے دو جنگیں لڑی ہیں اور دونوں میں ہی ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے۔میں نے کہا کہ تم نے دو جنگیں لڑی ہیں پہلی کو تو میں چھوڑتا ہوں دوسری جنگ عظیم کو لے لیں اس جنگ کے بعد تم پر بہت سا تاوان ڈالا گیا۔تمہارے ملک میں چھاؤنیاں بنالیں۔تمہیں غلام بنالیا، تمہیں حقارت سے دیکھا۔اس بات کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ جنگ میں تم نے یعنی جرمنوں اور ان کے ساتھیوں نے Allies ( ایلائز ) سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو زیادہ تعداد میں قتل کیا یا انہوں نے تمہارے زیادہ آدمی مارے۔جب جنگ ہو رہی تھی تو کسی ایک نے جیتنا تھا وہ جیت گئے اور تم ہار گئے لیکن تمہیں معاف نہیں کیا گیا اور یہ تمہاری تہذیب کی کمزوری ہے۔اس کے برعکس دنیا میں یہ واقعہ بھی ہوا ہے کہ ایک شخص کو رڈ سائے مکہ نے تیرہ سال تک مکی زندگی میں اور پھر ہجرت کے بعد بھی ان کے